طاقتور ممالک، ملٹی نیشینل کمپنیاں ، نان اسٹیٹ ایکٹرز، میڈیا، سوشل میڈیا ، عوام اور حکومتوں نے دنیا کو گورکھ دھندہ بنا رکھا ہے-
اب جبکہ دنیا کی آبادی بہت بڑھ چکی ھے اور وسائل میں کمی آئی ھے اس وقت گلوبل آرڈر بھی کمزور ہے اور ریاستوں میں حکومتیں بھی اپنی writ کھوتی جا رہی ہیں- گوبل آرڈر میں دینگا مشتی ھو رھی ھے اور ریاستی اداروں میں طاقت کی جنگ جاری ھے-
مسائل پیچدہ ہیں اور پیچیدگی کی چار وجوھات ہیں تنوع ( diversity)جس میں متنوع سیاسی، سماجی، اورمعاشی سیاق و سباق سے گزرنا ضروری ھے- باہمی انحصار ( interdependence)جہاں عالمی نیٹورک کے ایک حصے میں تبدیلی دوسرے حصوں کو متاثر کرتی ہے, ابہام ( ambiguity) اور تغیر ( flux) جو تیز اور غیر متوقع تبدیلیوں کے وجہ سے ہو رھا ہے۔
ان حالات میں ملٹی نیشنل کمپنیاں، ڈیجیٹل Giants, نان سٹیٹ ایکٹرز عوام کو لوٹ رھے ہیں، ورغلا رھے ہیں جس سے ریاست مزید کمزور ہو رھی ھے-
بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کی پہلی دھائی میں، مین سٹریم میڈیا عوامی رائے پر اثر انداز ہوتا رھا ھے- میڈیا کی یہ طاقت اسے حکمران طبقے اور سیاست کے قریب لے آئی- میڈیا یہ طاقت referent طاقت ہے-
اب سوشل میڈیا عوامی رائے پر اثرانداز ہونا شروع ہو گیا ھے اور مین سٹریم میڈیا کی طاقت تقریبا ختم ہو گئی ھے- اس کے ساتھ ہی critical mass جو کہ معاشرے کا پڑھا لکھا اور عوامی رائے پر اثر انداز ہونے والا طبقہ تھا ان کا کردار بھی ختم ہو گیا-
اب عوامی رائے الگورتھم اور مصنوعی ذھانت کے تابع ہے- گوگل دنیا کا سب سے زیادہ موثر پلیٹ فارم ہے جس کے بل بوتے پر یوٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر انحصار کرتے ہیں – نیپال اور بنگلہ دیش کی حکومت کے خلاف جنریشن Z کا احتجاج اسی سلسلے کی کڑی ھے-
حکومت اگر کمزور ہوتی رھی اور عوام بیرونی قوتوں کے ایما پر مسلسل سوال اٹھاتی رہی
تو ریاست کیسے چلے گی- دوسری طرف سوشل میڈیا کی طاقت نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے- حکومتوں کی نا اھلی سامنے آئی ھے-
میڈیا کے کردار اور سوشل میڈیا کی جزئیات کی ہم آہنگی ایک اہم مسئلہ ابھر کر سامنے آیا ھے- گوگل نے اشتہار پر مکمل حکمرانی جما لی ھے-
ان مسائل کے حل تو موجود ہیں مگر حل تک پہنچنے کے فورم نہیں ہیں- اور جو فورم موجود ہیں وہ critical thinking کی صلاحیت سے محروم ہیں- اگر عالمی اور ریاستی سطح پر مسائل کے حل تلاش کرنے ہیں تو پہلے مناسب فورم تشکیل دینے ہونگے ، جو ابتدائی طور پر میکنزم تشکیل دیں پھر اداروں کی ری سٹرکچرنگ اور مسائل کے حل کی طرف آئیں- کامیابی کے لیے، ہنر مند، موافقت پذیر ملازمین کی ضرورت ہوتی ہےجو تعاون کر سکیں، با علم اور ہنر مند ہوں اور ان متحرک چیلنجوں کا تیزی سے جواب دے سکیں۔
