یہاں تحقیق اور ہم آہنگی کے بغیر اندازے سے پالیسیاں بنتی ہیں – بجلی کا بحران تو نوے کی دھائی میںشروع ہوا لیکن اس میں شدّت ۲۰۱۰ کے بعد آئی– بجلی نے باقاعدہ کہہ سن کر اور ڈنکے کی چوٹ پر قوم کی آزادی چھین لی –بجلی کے ہجر اور وصال کی کہانی نے پاکستانی قوم کا ڈسپلن خوب بہتر کیا-ایک گھنٹہ بجلیآتی ،ایک گھنٹہ بند ھوتی– بجلی جب نہیں ہوتی تھی تو گزارہ چل جاتا ، لیکن بجلی آ جانے کے بعد اگلا گھنٹہ ” بجلی کے چلے جانے کے ڈر سے”ایک خوف میں گزرتا اور پھر ہجر کی شب شروع ہو جاتی- پھر ہم نے مہنگی بجلی خرید لی- اب قوم مہنگی بجلی کا قصّاص ادا کر رھی ھے-
قدرتی گیس ، سوئی کے مقام پر دریافت تو ساٹھ کی دھائی میں ہوئی ، لیکن اسے پورے ملک میں گھر گھر پہنچانے میں مزید پچاس سال لگ گئے- جب کنکشن پوری قوم کو مل گئے اور ہر گاڑی میں سی این جی کٹ لگ گئی تو پتا چلا پیچھے گیس ختم ہو گئی ہے- اب دوبارہ گیس سلنڈروں میں مل رھی ھے- اور پٹرول دو سو پچاس سے اوپر جا چکا ہے-
ٹیلی فون کی تاریں اور سوئی گیس کے پائپ بچھاتے بچھاتے پورے ملک کی اندرون شہر سڑکیں اور گلیاں اکھیڑ دی جاتیں اور پھر بنائی جاتی- لیکن کھودے جانے اور دوبارہ بنانے کے درمیان ، دس دس، پندرہ پندرہ سال کا وقفہ آتا- جیسے ہی ٹیلی فون کی تاریں بچھ گئیں، موبائل مارکیٹ میں آ گئے-
سرکاری پانی کی سپلائی کے لئے بڑے شہروں میں پائپ لائنیں پچھلی سات دھائیوں سے بچھ رہی ہیں اور اب پیچھے پانی کی سپلائی ختم ھو گئی ھے- عوام اب پانی ٹینکرز کے ذریعے نقد رقم سے خریدتی ھے-
۲۲۲ یونیورسٹیوں میں تقریبا ساڑھے پانچ کروڑ طلباء زیر تعلیم ہیں اور ملک میں نوکریوں کا کوئی نام و نشان نہیں-
اسّی کی دھائی میں کالا باغ ڈیم بنانے کی ضرورت محسوس ھوئی – جیسے جیسے پانی اور بجلی کا بحران بڑھتا رھا، کالا باغ ڈیم کے بننے کی راہ میں روکاوٹیں بڑھتی گئیں- اب جہاں ڈیم بننا تھا وہ علاقہ اور گردو نواح تو محفوظ ہیں ملک ڈوب گیا ھے-
