سب کچھ بدلا لیکن ہماری گوورننس کا طریقہ نہ بدلا- گوورننس آج بھی ایک ہاتھ دو، ایک ہاتھ لو کے کلیے پر عمل پیرا ھے-سیاست، ریاست کی ترقی اور استحکام کا پہلا زینہ ہے- جب کھانا بنانے والی ھانڈی کا پیندہ ہی نہیں تو کھانا کیسے بنے گا- ہمارے ہاں پچھلے اٹھتہر برسوں میں صرف سیاسی عدم استحکام کو استحکام حاصل ھے – جب پیندہ ہی ٹوٹ گیا تو سیاسی ہانڈی کیسے پکی گی-
جس طرح زمیں سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے اور لگاتی جا رہی ھے، اسی طرح ہم افراتفری اور ابتر حالات کے گرد ، سردائی پی کر، اندھا دھند دھمال ڈالتے جا رہے ہیں-
گوورننس اور عوامی مزاج mutually exclusive ہیں-باہر سے کچھ نہیں آیا- ہم ایک مکمل extractive سسٹم میں بند ہیں- اسی لئے ملک میں صرف افراتفری کو استحکام حاصل ہے-

سیرالیون افریقہ کے جنوب میں ،ھیرے کی کانوں کی وجہ سے مشہور ، ملک ھے جو اپنی ملکی قیادت کی نااھلی کی وجہ سے غریب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ھے- دو دھائیاں قبل اقوام متحدہ کی فوج کا حصّہ بن کر وہاں جانے کا اتفاق ہوا- کوئیڈو شہر کے دو اطراف ھزاروں لوگ دن بھر ھیرے کھودتے نظر آتے اور غیر ملکی ان سے کوڑیوں کے بھاؤ ھیرے خرید لیتے- اتنی غربت تھی کہ لوگ دو وقت کا کھانا کھانے سے معزور تھے- وجہ صرف نا اھل قیادت-
ہمارے ہاں مس گوورننس کی بنیادی وجہ ہماری ادھوری معلومات، محظ سیاسی بیان بازی، تجزیے اور زرخیز سوچ کی کمی ھے- لگے بندے چار پانچ سیاسی ٹوٹکے ہیں جن کا ہم باقاعدگی سے استعمال کرتے آ رھے ہیں-
مغلیہ سلطنت کی تباھی اور پر رونق گورننس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان کو چَس اور کام کرنے کے فرق کا بہت جلد علم ہو گیا – اکبر کے زمانے سے فتوحات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اورنگزیب پر آ کر ختم ہو گیا- مغلیہ شہزادے جنگوں کی سختیوں کے عادی نہ رہے -وہ بھانپ چکے تھے کہ جنگیں لڑنا ان کے بس کی بات نہیں- عافیت اسی میں ھے کہ دن کو سو جاؤ اور فریش ھو کر رات کی تاریکی میں محفل سجاؤ- کو جاگو جائے- اس زمانے میں کیونکہ انٹر نیٹ کی سہولت نہیں تھی، اس لئے طبلے اور گھنگرو سے کام چلاتے تھے- محمد شاہ رنگیلا نے گوورنس کو کچّے ٹریک پر ڈال کرگوورننس کے کس بل درست کئے اور بالاخر معاملات نادر شاہ سے ھوتے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپرد کر کے سر خرو ھوا-
سیاست، گوورننس، تجارت ہر جگہ یہی منصوبہ بندی کی جاتی ہے کہ عام آدمی کی آنکھوں میں دھول کیسے جھونکنی ہے- عام آدمی کو دھوکہ دینے کےایسے ایسے طریقے استعمال کئے جا رھے ھیں کہ عقل دنگ رھ جاتی ھے۔
کسی نے بیگانگی کی حد دیکھنی تو ہمیں دیکھ لے- دنیا کے تمام مسائل ، پریشانیوں اور خطروں سے بے نیاز ہم علیحدہ قسم کے پیچے ڈال کے بیٹھے ہوئے ہیں- کبھی اُدھر سے بُو کاٹا کی آواز آتی ہے کبھی اِدھر سے-بسنت کا سماں ہے-
پچیس سال سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، 2005 کا زلزلہ، 2010 اور 2022 کے سیلاب، تھر کی خشک سالی، آبی وسائل کی کمی، گیس کے تقریبا ختم ہوتے ہوئے وسائل، آئی پی پیز کے معاملات ،معدنیات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کا فقدان، انفارمیشن کی بدلتی صورتحال نے گوورننس کو اتنا پیچیدہ بنا دیا ھے کہ ہمارے معجزاتی تبدیلیاں درکار ہیں-
