سوشل میڈیا کا استعمال اگر مثبت نہ ہو تو یہ ایک گہری کھائی ثابت ھوتا ھے-انفارمیشین، خبر، اشتہاری مہم ، فلم اور میوزک یہ تمام میٹافورزانسانی سوچ پر غلبے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور اس کام کے لئےسکرین، تصویر، آواز، الفاظ اور میوزک کا استعمال کیا جاتا ہے –
خوراک انسانی جسم کو توانائی بخشتی ھے تو میڈیا انسانی سوچ کی پرورش کرتا ہے- نہ ہی خوراک خالص دے رھے ہیں اور نہ ہی سوچ – نتیجتا جسمانی اور ذھنی طور پر روبوٹ نما انسان وجود ہیں آ چکے ہیں- اگر خوراک ٹھیک نہ ھو توجسم کو نقصان پہنچاتی ھے ایسے ہی میڈیا content دماغ پر اثر انداز ہوتا ھے- جیسے زردے کی دیگ میں ہلکا سا زعفران ملاتے ہیں ایسے ہی میڈیا کی پراڈکٹس میں چائے والے چمچے کے برابر ” سچ” ملا ہوا ہوتا ھے- میڈیا کی ہر پراڈکٹ اپنے اندر پوشیدہ عزائم رکھتی ہیں- خالص دیسی گھی، چرپی والا گوشت، چینی جسم کو توانائی تو بخشتا ھے مگر دل کے امراض کا باعث بھی بنتا ہے- ٹی وی پروگرام، وی لاگ، کالم ذھنی امراض کو جنم دیتے ہیں- سگریٹ اور ٹویٹر دونوں یکساں نقصان پہنچاتے ہیں- سگریٹ پھیپھروں کےکینسر کا باعث بنتا ہے تو ٹویٹر ذھنی پریشانی کی وجہ-
ایک ہی ڈش کو مختلف طریقوں سے باورچی اپنے حساب سے پکاتا ھے- یہی حال نشرو اشاعت میں content کی تیاری کا ہے- بنیادی طور پر میڈیا انڈسٹری ، انٹرٹینمنٹ اور خبر، کا نام ہے – خبروں کی دنیا مکس مٹھائی ھے- سب کچھ ملا ہوتا ھے- کبھی کبھی اچھا دانہ ہاتھ آجاتا ھے ورنہ، میسو، مٹھائی اور لڈو ہی کی لزّت پر گزارہ کرنا پڑتا ھے-وی لاگ، سموسے کی طرح ھے- اچھی چٹنی کے ساتھ بندہ نگل تو لیتا ھے لیکن حالت غیر ھو جاتی ھے-

میڈیا کی طاقت اس کی سائنسی بنیادوں میں ہے۔ یہ فارمولوں پر چلتا ہے جو انسانی نفسیات کو سمجھ کر بنائے جاتے ہیں۔ فلمیں، موسیقی اور شاعری دماغ کے جذباتی مراکز کو متحرک کرتی ہیں، جبکہ خبریں خوف یا جوش جیسے جذبات کو ابھارتی ہیں۔ لیکن یہ نفسیاتی اثرات ہمیشہ مثبت نہیں ہوتے۔ میڈیا جہاں ایک طرف لوگوں کو جوڑتا ہے، وہیں یہ ان کے ذہنوں کو تقسیم بھی کرتا ہے، پولرائزیشن اور گروہی تعصب کو فروغ دیتا ہے۔
تقریباً 40 فیصد بالغ افراد سوشل میڈیا کی وجہ سے مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں جس میں تنہائی یا الگتھلگ ہونے کا احساس نمایاں ہیں، جبکہ 50 فیصد نوجوان سوشل میڈیا کے استعمال سے اضطراب یاڈپریشن کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال نیند میں خلل، توجہ کے دورانیے میں کمی،اور ڈوپامائن اور نشے کے رویوں کو فروغ دیتا ہے۔

سائبر بُلنگ یعنی سوشل میڈیا پر برا بھلا کہنے کی وجہ سے متاثرہ نوعمروں میں ڈپریشن کی شرح 70 فیصد تکپہنچ چکی ھے- ہر دس میں دو نوجوان سوشل میڈیا کی وجہ سے مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں جس میں خود پر قابو نہ رکھ پانا سب سے نمایاں ھے-سوشل میڈیا پر لائکس اور کمنٹس دماغ میں ڈوپامائن کے اخراج کو متحرک کرتے ہیں، جو بار بار سوشل میڈیا دیکھنے کی ترغیب دیتا ھے-سوشل میڈیا کی عادت فوری ردعمل کے رجحان کو بڑھاتی ھے- اگر کچھ دیر موبائل سے دور ھوں تو لگتا ھے کچھ کھو گیا ھے –نہ:
مختلف پلیٹ فارمز دوسروں سے موازنہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جو احساس کمتری، کم خوداعتمادی میں کمی ، اور مسخ شدہ شخصیت کو جنم دیتے ہیں -پر تشدد یا آفات کے بارے میں پریشان کن خبروں کے سامنے آنے سے تناؤ، اضطراب، پیدا ھوتا ھے-
سوال یہ ہے کہ کیا ہم میڈیا کے اس نفسیاتی جادو سے آزاد ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب ذہنی بیداری اور تنقیدی سوچ میں مضمر ہے۔ ہمیں میڈیا کے مواد کو فلٹر کرنا سیکھنا ہوگا، اس کے ایجنڈوں کو سمجھنا ہوگا، اور اپنی ذہنی صحت کو ترجیح دینی ہوگی۔
