تاریخ کے عظیم فلاسفہر اور سیاسی مفکرین نے فلسفہ حکومت کے موضوع پر گہرے خیالات پیش کیے ہیں، جن میںسے کچھ نے حکمرانی کو ایک اخلاقی ذمہ داری قرار دیا، جبکہ بیشتر نے اسے ایک بے رحم کھیل کے طور پردیکھا۔ دو مشہور کتابیں اس سلسلے میں خاص طور پر اہم ہیں: نِکولو میکیاویلی کی “دی پرنس” اور چانکیہ(کاؤٹیلیا) کی “ارتھ شاستر”۔ یہ دونوں تصانیف حکمرانی کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں، جہاں اخلاقیاتاور انسانیت کی جگہ حکمت عملی اور طاقت کی حفاظت لے لیتی ہے۔
میکیاویلی، جو اٹلی کے نشاۃ ثانیہ کے دور کے ایک عظیم سیاسی مفکر تھے، نے “دی پرنس” میں حکمرانی کوایک فن کے طور پر پیش کیا ہے جو اقتدار کے حصول اور اس کی حفاظت پر مرکوز ہے۔ ان کے نزدیک،حکمران کا بنیادی مقصد ریاست کی فلاح نہیں بلکہ اپنے اقتدار کی مضبوطی ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہیتباہ کن تدبیریں کیوں نہ اپنانا پڑیں۔ میکیاویلی کا فلسفہ “میکیاویلین ازم” کے نام سے مشہور ہے، جو یہسکھاتا ہے کہ حکمران کو اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، وہ کہتے ہیں کہحکمران کو اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے ممکنہ حریفوں سے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔ اسے حاصل کرنے کاایک طریقہ یہ ہے کہ نئی حکمرانی کے ارد گرد کمزور لیڈروں کو اپنا دفاع کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔ اگرحکمران ان کمزور لیڈروں کو زیادہ طاقتور دشمنوں سے بچاتا ہے، تو وہ خوشی سے اس کے سیاسی حلقے میںشامل ہو جائیں گے، اور یوں حکمران کی طاقت مزید مستحکم ہو جائے گی۔ ایک اور اہم اصول یہ ہے کہحکمران کو مستقبل کے خطرات سے مسلسل آگاہ رہنا چاہیے اور قبل از وقت کارروائی کرنی چاہیے، بالکلاسی طرح جیسے بیماریوں کا علاج ابتدائی مراحل میں آسان ہوتا ہے۔ میکیاویلی کے افکار میں عوام کیہمدردی کا کوئی مقام نہیں؛ وہ عوام کو ایک ایسے ہجوم کے طور پر دیکھتے ہیں جسے خوف اور محبت کےامتزاج سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو خوف کو ترجیح دیجائے، کیونکہ محبت آسانی سے ختم ہو سکتی ہے۔
اسی طرح، قدیم ہندوستان کے مفکر چانکیہ، جو موریہ سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ کے مشیر تھے، نے“ارتھ شاستر” میں حکمرانی کو ایک سائنسی اور حکمت عملی کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔ چانکیہ کے افکار بھیمیکیاویلی کی طرح تباہ کن ہیں، جہاں اقتدار کے حصول اور حکومت کی تشکیل کے لیے ہر حربہ جائز ہے۔ان کے نزدیک، حکمران کو اپنے دشمنوں کو ختم کرنے، جاسوسی کا جال بچھانے اور اتحادوں کو توڑنے کیصلاحیت رکھنی چاہیے۔ چانکیہ کا مشہور اصول “سم، دام، دنڈ، بھید” ہے، یعنی دشمن کو رشوت، پیسہ، سزایا تقسیم کی پالیسی سے زیر کیا جائے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکمران کو اپنے ارد گرد کے لوگوں پر مکملکنٹرول رکھنا چاہیے، حتیٰ کہ اپنے خاندان اور دوستوں پر بھی شک کی نگاہ رکھنی چاہیے۔ چانکیہ کے افکار میںاخلاقیات کا درس تو موجود ہے، لیکن جب بات حکمرانی کی آتی ہے تو یہ سب پس پشت ڈال دیا جاتا ہے،اور صرف اقتدار کی حفاظت اہم ہو جاتی ہے۔
تھامس ہابز ، جو انگریزی فلسفی تھے اور ان کی کتاب “لیویتھن” میں حکمرانی کی ایک تاریک تصویر پیش کی گئیہے۔ ہابز کے نزدیک، انسانی فطرت خود غرض اور جنگجو ہے، اور قدرتی حالت میں زندگی “تنہا، غریب،گندی، وحشیانہ اور مختصر” ہوتی ہے۔ اس لیے، حکمران کو مطلق اقتدار کی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کو ایکدوسرے سے بچا سکے۔ ہابز کا لیویتھن ایک ایسا حکمران ہے جو عوام کی ہمدردی کی بجائے خوف اور طاقتسے حکمرانی کرتا ہے۔ ان کے افکار میں، عوام کی توقع کہ حکمران ہمدردی دکھائے، ایک بچگانہ خیال ہے،کیونکہ اقتدار کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ ہمدردی کو کمزوری بنا دیتی ہے۔ ہابز کا فلسفہ یہ بتاتا ہے کہ حکمرانعوام کے لیے ایک “دیوہیکل” کی مانند ہے، جو ان کی حفاظت کرتا ہے لیکن بدلے میں مکمل اطاعت کامطالبہ کرتا ہے۔
ایک اور اہم مفکر ہان سُن تزُو، چینی فوجی حکمت عملی کے ماہر، جن کی کتاب “آرٹ آف وار” حکمرانی اورجنگ کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ سُن تزُو کے افکار میں، حکمران کو دشمن کو جاننے اور خود کو چھپانے کیصلاحیت رکھنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ “سب سے بڑی فتح وہ ہے جو بغیر لڑائی کے حاصل ہو”، یعنیحکمران کو حکمت عملی سے اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ عوام کی ہمدردی ان کے فلسفے میں کوئی جگہنہیں رکھتی؛ بلکہ عوام کو ایک فوج کی مانند دیکھا جاتا ہے جسے کنٹرول اور استعمال کیا جائے۔ سُن تزُو کےاصول، جیسے “دشمن کو کمزور کرنے کے لیے اسے الگ تھلگ کرو”، حکمرانوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ ہمدردیایک کمزوری ہے جو اقتدار کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
آخر میں، فریڈرک نطشے، جرمن فلسفی، نے اپنے افکار میں طاقت کو ایک بنیادی انسانی ڈرائیو قرار دیا ہے۔ان کی کتاب “تھس سپیک زرتھشترا” اور دیگر تصانیف میں، نطشے “وِل ٹُو پاور” کا تصور پیش کرتے ہیں،جہاں حکمران ایک “سپر مین” کی مانند ہوتا ہے جو اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہے۔ نطشے کے نزدیک، عوام“ریوڑ” کی مانند ہیں جنہیں لیڈر کی ضرورت ہے، لیکن یہ لیڈر ہمدردی نہیں بلکہ طاقت اور ارادے سےحکمرانی کرتا ہے۔ ان کا فلسفہ یہ بتاتا ہے کہ حکمرانوں سے ہمدردی کی توقع کرنا ایک غلامانہ ذہنیت ہے، اورحقیقی طاقت اخلاقیات سے بالاتر ہے۔
ان تمام فلاسفہ کے افکار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکمرانی کی دنیا میں ہمدردی ایک نایاب چیز ہے۔ تاریخ گواہہے کہ بیشتر حکمرانوں نے اقتدار کی حفاظت کو عوامی فلاح پر ترجیح دی، اور یہ سراب ہی رہا کہ عوام کوحقیقی ہمدردی ملے گی۔ تاہم، یہ افکار ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ایک بیدار عوام ہی حقیقی تبدیلی لا سکتیہے، جہاں حکمرانوں کو جوابدہ بنایا جائے۔
