لاڈلا وہ ہوتا جو کوئی دوسرا نہیں ہوتا-عموما دنیا میں طاقت اور صلاحیّتوں کی پزیرائی ہوتی ہے-لاڈلا واحد مقام ہے جس کا کارکردگی یا صلاحیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ کیفیّت کی پیداوار ہے -لاڈلوں کے ذمّے صرف ایک کام ہے ” exploitation” -اسرائیل جیسے امریکہ کا لاڈلا ہے- دنیا کی مصیبتوں اور جنجھال کے پس پشت امیر ترین خاندانوں کے ساتھ ساتھ لاڈلوں کا بہت عمل دخل ہے- سیاست میں لاڈلے کئی دفع ووحد قومی اسمبلی کی نشت کے ساتھ وزارت لے اڑتے ہیں- کئی دفع تو لاڈلہ پارلیمنٹ میں بھی نہیں ہوتا لیکن حکومت میں ہوتا ھے- لاڈلے وزیر اعظم بھی ہو گزرے ہیں-لاڈلے بغیر کوئی سکور کئے یا وکٹ لئے کئی کئی کرکٹ سیریز کھیل جاتے ہیں- لاڈلا رات کو دو بجے اٹھ کر آلو والے پراٹھے کا بھی تقاضا کر سکتا ہے اور اسے مل بھی جاتا ہے- عموما گھر کا سب سے چھوٹا چشم چراغ لاڈلا نکلتا ہے- فلم انڈسٹری اور شوبز میں ایک لاڈلا یا لاڈلی لازمی ہوتی ھے- یونیورسٹی کی کلاس میں بھی ایک آدھ لاڈو ضرور ھوتی ہے-
مغربی کلچر میں بچوں کی بجائے لاڈلے کا مرتبہ کتّوں اور بلیّوں کے پاس ہے- ہمارے ہاں بچوں کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں کبوتر اور بٹیرے بھی لاڈلے ہیں- گھوڑے تو اکثر ڈالڈلے نکلتے ہیں-اگر بہوئیں چار پانچ ھوں تو ساس کسی ایک کو لاڈلی بنا چھوڑتی ھے تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے- سرکاری ملازمین میں PAS کو لاڈلوں کا درجہ حاصل ہے، انہوں نے آگے دفاتر میں لاڈلے پالے ہوتے ہیں- وزیر ،حلف وفاداری کے بعد ، وزارت میں اپنا لاڈلا ساتھ لے کے آتے ہیں-
گراٹو جلیبی بھی مٹھائیوں کی لاڈلی ھے-صحافت میں میڈیا ھاؤسز کے مالکان کے اپنے لاڈلے ھوتے ہیں- دنیا میں 20% کام کرنے والے, 79 % نکمّے اور 1% لاڈلے اور لاڈلیاں ہیں-
یہ ایک فیصد وہی انوکھے لاڈلے ہیں جو کھیلن کو چاند مانگتے ہیں-
