لور ، لوریوں سے ھے- اس لئے لاھوریے پہلے اور لاھور اوناں دے نال، بعد وچ
لاھور پورے پنجاب کا سانجھا شہر ہے– لاھور آنے والی سواریوں کو بادامی باغ پہنچتے ہی دل کو قرار سا مل جاتا ہے – لاھور وہ شہر ہے جس کا چسکا، نشہ بن کے رگوں میں اتر جاتا ھے–
برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک پارٹی میں کچھ گورے دوست بھی مدوع تھے- ایک پاکستانی دوست ساجد خوب گپیں ہانک رھا تھا- الفریڈ نامی گورے کو بندہ دلچسپ لگا- ساجد سے گپ شپ میں اپنائیت سے پوچھا آپ پاکستان کے کس حصے سے ہیں- ساجد نے کہا ” لاھور”- الفریڈ نے جواب سن کر فورا کہا “اوہ” جہاں ہر مریض کو مرنے سے پہلے لاتے ہیں- same city where every serious patient is brought before death
ساجد ہکا بکا ، الفریڈ کو دیکھتا رھا-
یہ سچ ہے کہ پنجاب میں تمام سیریس مریضوں کو لاھور ہی لے کر آتے تھے -اس سے یہ بھی اندازہ ھوتا ھے پنجاب نے صحت کے شعبے میں کتنی ترقی ہے – یعنی پورے صوبے میں کہیں بھی کوئی مناسب ھسپتال نہیں سوائے لاھور کے- اگر مرض مقامی ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہ آ رھا ھو تو وہ لواحقین کو کہتے تھے ” اینوں لاھور لے جاؤ” – یہ سنتے ہی گھر والے دھاڑیں مارنا شروع کر دیتے تھے– پورے پنجاب کے ڈاکٹرلاھور کو میڈیکل سائنس کا گڑھ سمجھتے ہیں – اور کچھ مریض یہاں سے شفا یاب ہو کر گئے بھی ہیں –
اگر کوئی لاھوریا پیدا بھی ادھر ہی ہوا ہے، پڑھائی بھی ادھر کی ھے، اس کا سسرال بھی ادھر ہی ہے ،آپ اسے اٹھا کر سان فرانسیسکو بھی لے جائیں وہ چند دنوں بعد واپس بھاگ آئے گا– اپنے سے بڑوں کواحتراما ” پائن” کہتے ہیں– اور عمر میں چھوٹے کو ” چھوٹا” ہی کہتے ہیں صرف ساتھ ” اوئے” لگا لیتے ہیں – ” اوئے” کو بڑی جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے ” کی آ اوئے“،” اوئے پچھے ھٹ“- لاھور میں رنگ روڈ، اورنج ٹرین اور میٹرو بس کےاضافے نے شہر کو نئی زندگی بخشی ہے- اندرون لاھور جوں کا توں سے ، نہ کبھی گھروں کی مرمّت ھوئی ھے نہ گلیوں کی- لاہور چھولے مرغ اور لسی پر چل رھا ھے-
الحمرا حال ادھر ہی ھے- نرگس کے اسٹیج ڈرامہ کو الوداع کہنے سے، لاھور میں ادبی سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہوا ھے- ببو برال، مستانہ،شوکی خان اب نہیں رھے– ان کی جگہ ناصر چنیوٹی اور امانت چن نے لے لی ھے-
انار کلی، لبرٹی، داتا صاحب، لکشمی، مزنگ، بھاٹی ، گلبرگ میں سے فیصلہ کرنا مشکل ہے مٹن کڑاھی کدھر سے اچھی ملتی ہے- چمن آئسکریم کا ابھی تک کوئی مقابل نہیں – کسی دور میں پھجے کے پائے مشہور تھے،لیکن وہ اب ہر جگہ مل جلتے ہیں – پائے کی بہت سی دوکانیں اب شہر کے مختلف علاقوں میں کھل گئی ھوئیہیں– لاھور میں پائے کھاتے ھوئے شوربہ منہ سے گرنا اس بات کی علامت ہے کہ پائے اچھے بنے ہیں – بلکہ شوربہ منہ سے نہ گرے تو ویٹر پوچھنے آ جاتا ہے کہ ” پائن پائے چنگے نئی بنے“- لاھوریے ناشتہ عبادتسمجھ کر کرتے ہیں – لسی، پائے اور چھولے لاھوریوں کے دل کے قریب ہیں– لنچ ان کی مجبوری ہے اور رات کی روٹی سے عشق کرتے ہیں – پولٹری کے بزنس کی کامیابی میں لاھور میں بننے والی چکن کڑاھی کا بہت ہاتھ ہے- پتنگ بازی اور الیکشن لاھوریوں کے لئے شغل ہے– لاھوریوں کی کثرت مسلم لیگی ہے –الیکشن کو تہوار سمجھ کر مناتے ہیں – اگر اپنا امیدوار جیت جائے تو خوش ھوتے ہیں لیکن اگر ہار جائےتو بہت زیادہ خوش ھوتے ہیں کہ “چلو ایدھا شغل لاواں گے“- گالیاں شوق اور پیار سے دیتے اور کھاتےہیں – بلکہ کوئی دوست آدھا گھنٹہ تک گالی نہ دے تو اس سے استفسار کرتے ہیں کہ ” کی ھویا تینو“- وہ آگےسے بڑا سا پھکڑ تولے تو تب کہیں جا کے تسلی ھوتی ھے کہ بندہ ٹھیک اے–لاھوریوں کے کھانے پینے کوعادات کو دیکھ کر ہی یو این نے فوڈ سیکورٹی کے لئے الرٹ جاری کیا ہے اور ورلڈ ھیلتھ پروگرام نے دلکے امراض کے مزید ھسپتال بنانے کی تجویز دی ھے– پنجاب کا وزیر اعلی لاھور سے نہ ھو تو وہ وزیر اعلیپنجاب لگتا ہی نہیں – عثمان بزدار کو آخر تک وزیر اعلی تسلیم نہیں کیا – “لاھور کی سب سے میٹھی گالی
” ڈھکن “ھے – عمومی طور پر یہ عزت افزائی کسی ایسے دوست کے حصے میں آتی ھے جو معصوم حرکتیںکرنے میں مہارت رکھتا ھو ہو– لاھور کے بارے میں مکمل چھا بین مشکل ہے– لیکن یہ ضرور ھے کہ نئ ریساں شہر لاھور دیاں- ماڈرن لاھور تو سنیا ھے کہ ھور سوہنا ھو گیا اے-
