پاکستان کی معیشت کے ماخذ تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب، رئیل اسٹیٹ کی ترقی، اور غیرزرعی روزگار نے معیشیت نئی جہت عطا کی ھے۔
پاکستان کی کنزومر مارکیٹ دسمبر 2024 تک $318.2 بلین کو چھو رہی تھی-یعنی ہم پاکستانی دل کھول کرخرچ کر رہے ہیں! یہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ ہماری معیشت کی مضبوطی کے اشارے ہیں
پاکستان میں 41 ملین گھرانے ہیں، اور ہر گھر میں اوسطاً 6.4 لوگ رہتے ہیں۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہان میں سے صرف 1.3 افراد ہی کماتے ہیں۔ 85% گھرانوں کے پاس اپنا گھر ہے، اور 84.7% کو بجلیمیسر ہے۔
ہماری افرادی قوت کو ابھی بڑا امتحان درپیش ہے۔ 60% سے زیادہ مزدور پیشہ لوگ صرف پرائمری پاسہے، اور صرف 6% نوجوانوں نے تکنیکی یا پیشہ ورانہ تربیت لی ہے۔ آئی ٹی، صحت کی دیکھ بھال، قابلتجدید توانائی، اور ای–کامرس جیسے شعبوں میں مواقع کی بھرمار ہے لیکن ھنر مند افراد نہیں ہیں ۔
اب گھریلو بجٹ کا رخ بدل رہا ہے۔ لوگ اب کھانے کے ساتھ ساتھ کپڑوں، گھروں کی سجاوٹ، اورالیکٹرانکس پر خرچ کر رہے ہیں
دیہی علاقوں میں ایک بڑا رجحان یہ ہے کہ لوگ زراعت کو “الوداع” کہہ رہے ہیں۔ اب دو تہائی گھریلوآمدنی غیر زرعی کاموں سے آتی ہے، جیسے کہ فیکٹریوں، تعمیرات، یا دکانوں کے کرائے سے۔ یہ ایک بڑیمعاشی تبدیلی ہے–
پاکستان میں آن لائن شاپنگ میں 68 % اضافہ ہوا ہے- ای–کامرس جادو کی چھڑی بن چکی ہے۔
