ہمارے پاکستانی بھائی کمیٹی ( اوں ھوں ، قومی اسمبلی والی کمیٹی نہیں) کی افادیت سے بخوبی آگاہ ہیں- یہ گلی، محلے اور بازار کی محفوظ سرمایہ کاری ھے- زیادہ تو نہیں ملتے، لیکن اپنا ماھانہ یا ھفتہ وار دیا جانے والا پیسہ اکٹھا جب واپس ملتا ہے تو خوشی دیدنی ھوتی ھے- کمیٹی ایک حوالہ ھے، میٹا فور کہ لیں کہ ،جو دیا ھوتا ھے وہ واپس مل جاتا ھے- اسے karma بھی کہتے ہیں- ہم جو کرتے ہیں اس کا صلہ ہمیں ادھر بھی ملتا ھے اور دوسرے جہاں میں بھی ملے گا-
پاکستان میں ہم نے بہت پہلے مصیبتوں کی کمیٹی ڈالی تھی -جنہوں نے ڈالی تھی ان میں سے زیادہ دنیا سے سدھار گئے، جو بچ گئے ہیں وہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے سائیڈ پر کھڑے صرف مسکرا رھے ہیں – سب باقاعدگی سے کمیٹی دیتے رھے- کہیں سندھو دیش آڑے آیا، کہیں علیحدگی پسند تحریکوں کے نعرے، کہیں کالا باغ ڈیم نہ بنانے کی ضد، کہیں انتہاء پسندی پڑی رھنے دی، کہیں بجلی کے انتہائی مہنگے معاھدے، تعلیم کا بجٹ مسلسل دو فیصد، سفارش، تھانہ کچہری ، بدیانتی، سوسائیٹیاں، درختوں کی کٹائی، پلاسٹک، کچرا سب کچھ – اور اب کمیٹیاں دھڑا دھڑ نکل رھی ہیں- نہ قوم کو سمجھ آ رھی ہے پانی سے نکلنا کیسے ہے اور نکل بھی آئے تو جائیں گے کہاں-

گرمی ہر سال نئی طاقت سے وار کرتی ہوتی آتی ہے- انتظامیہ نے کیونکہ سی ایس ایس کر رکھا ھے ، وہ تو کسی کو جواب دہ نہیں- اب سی ایس ایس ھے اور سیلاب میں پھنسے لوگ- پرتگال کا یہاں ذکر مناسب نہیں-
۲۰۲۵ کی ابھی تک کی عالمی رپورٹ تو ” سب اچھا ” کہ رھی ہے سوائے بھارت کی عبرت ناک شکست، اور بقول صدر ٹرمپ 7 طیاروں کی تباھی کے جن میں 4 رافیل طیارے بھی شامل ہیں- جب سال ۲۰۲۵ شروع ہوا تو ٹرمپ اور ایلن مسک کی دوستی سمندروں سے گہری ہو چکی تھی- پھر ایک دم سطح سمندر پر آ ہی اور ٹٹ گئی – سمندر کی طے میں کیا ہوا کسی کو علم نہیں – اسرائیل نے فلسطنی بچوں اور عورتوں کا قتل عام جاری رکھا اور دنیا 2022, 2023 اور 2024 کی طرح 2025 میں بھی بے بس نظر آئی- ایسا کیوں ھے، بالکل کسی کو اس کا علم نہیں-پھر ایران اور اسرائیل کی مڈبھیڑ ھوئی اور WWF کی ریسلنگ کی طرح پتا نہیں چلا کون ہارا کون جیتا –
صدر ٹرمپ کی جیت سے ایک دفع ایسا لگا شاید روس اور یوکرائن کی جنگ ختم ہونے جا رھی ہے پھر ٹرمپ نے tariff war شروع کر دی- جنگ کیوں جاری ھے اور tariff war کے نتائج فی الحال کوئی خاص نتیجہ نہیں نکل پایا-
2025 کے پہلے چھ ماہ دنیا کے لیے ایک غیر معمولی اور ہنگامہ خیز وقت رہے ہیں۔ 20 جنوری کو ڈونلڈٹرمپ نے 47ویں امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھایا، جس نے پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کا آغاز کیا۔ان کی “امریکہ سب سے پہلے” پالیسی، جس میں چین پر نئے محصولات اور یوکرین کی امریکی حمایت پر نظرثانیشامل تھی، نے عالمی منڈیوں اور اتحادوں میں ہلچل مچا دی۔ یوکرین–روس امن معاہدے کی کوشش، جوعلاقائی رعایتیں مانگتی تھی، نے یورپی سلامتی اور نیٹو کے اتحاد پر سوالات اٹھائے۔ امریکہ میں اس کے نتیجےمیں زبردست احتجاج شروع ہوئے، جو ملکی سطح پر گہری تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔
یورپ میں سیاسی منظرنامہ روس نواز اور روس مخالف ایجنڈوں کی کشمکش سے دوچار ہے۔ کئی ممالک،جیسے آذربائیجان اور جارجیا میں، اپوزیشن کی کمی نے جمہوری زوال کو واضح کیا، جہاں سیاسی تشدد اوراحتجاج کو دبانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔
سماجی ہم آہنگی کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق، سماجی تقسیم چوتھاسب سے بڑا عالمی خطرہ ہے، جبکہ دولت اور آمدنی کی عدم مساوات ساتویں نمبر پر ہے، جو خاص طور پرترقی پذیر ممالک میں بدامنی کا باعث بن رہی ہے۔ میانمار میں خانہ جنگی نے 30 لاکھ سے زائد لوگوں کوبے گھر کر دیا، جس سے سماجی اور انسانی بحران گہرا ہوا، اور اب مزید خونریزی کا خطرہ ہے۔ بنگلہ دیشمیں بھی سیاسی اور معاشی اصلاحات کے لیے ہلچل جاری ہے۔
معاشی طور پر، 2025 میں عالمی معیشت نے لچک دکھائی لیکن اسے بڑی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ عالمی ترقی2.8 فیصد رہی، جو وباء سے پہلے کی 3.2 فیصد اوسط سے کم ہے۔ ورلڈ بینک نے تجارتی پابندیوں،جغرافیائی سیاسی تناؤ اور ماحولیاتی خطرات کو بڑے چیلنجز قرار دیا۔ چین کی معاشی ترقی 4.5 فیصد تکسست ہوئی، جبکہ یورپ اور وسطی ایشیا کی ترقی 2.4 فیصد تک گر گئی۔ لاطینی امریکہ اور کیریبین میں ترقی2.3 فیصد کے ساتھ سب سے کمزور رہی۔ جرمنی کی معیشت کو جنگ کے بعد کا بدترین بحران قرار دیا گیا،جبکہ جنوبی سوڈان میں تیل کی پائپ لائن ٹوٹنے سے معاشی تباہی آئی، جس سے مہنگائی اور خوراک کی قیمتوںمیں 95 فیصد اضافہ ہوا۔
ماحولیاتی تباہی اس صدی کا سب سے بڑا المیہ بن کر سامنے آئی۔ جنوبی کیلیفورنیا میں جنگل کی آگ نے250 سے 275 بلین ڈالر کا نقصان کیا۔ میانمار، ہیٹی اور جنوبی سوڈان میں طوفانوں، زلزلوں اور سیلابنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
یہ سال سیاسی تقسیم، معاشی کمزوری، جاری جنگوں، ماحولیاتی آفات اور احتجاج سے بھرا رہا، جو عالمیمنظرنامے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
