حکمت عملی اپنانے کے لیے چند بنیادی اصول دل و دماغ میں بٹھائیں۔
ہمیشہ حالات کو ٹھنڈے دل سے پرکھیں، جذبات کو فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیں، کیونکہ جلد بازی پاؤں پھسلاتی ہے۔ کامیابی کے نشے یا غصے کے عالم میں خاص احتیاط برتیں، ورنہ خود اعتمادی خطرات پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ خوف بھی دھوکا دیتا ہے، خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور ناکامی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ لوگوں کی باتوں پر نہیں، ان کے عمل پر نظر رکھیں۔ اپنی طاقت پر بھروسہ کریں، دوسروں کے سہارے کی امید نہ باندھیں۔ اصل حکمت عملی مادی طاقت سے آگے نفسیاتی جنگ جیتتی ہے، جو دشمن کے دل و دماغ کو نشانہ بناتی ہے۔ بلند ہو کر پرندے کی آنکھ سے دیکھیں، جو مواقع اور امکانات کو صاف دکھاتا ہے۔ اپنی کمزوریوں سے لڑ کر خود کو ناقابل شکست بنائیں۔
حقیقی دشمن کو پہچانیں، وہ جو سامنے ہے ہی نہیں، بلکہ چھپ کر وار کرتا ہے۔ اپنے عزم کو پختہ کریں۔ خود کو تنہا جنگجو سمجھیں، جو چاروں طرف سے خطروں میں گھرا ہے—یہ آپ کو چوکنا رکھتا ہے۔ سب کو خوش کرنے کی خواہش چھوڑیں؛ عزت کمائیں اور ضرورت پڑے تو خوف جگائیں، کیونکہ یہ عارضی محبت سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
براہ راست لڑائی سے بچیں۔ ماضی کی زنجیریں توڑ کر صرف حال پر نظر رکھیں۔ بڑے لیڈر پرانے خیالات کو دفن کر کے اور حال کو گلے لگا کر جیتتے ہیں۔ اپنے عقائد کو کھری کسوٹی پر پرکھیں، پرانی لڑائیوں کی یادیں بھلا دیں۔ دماغ کو چاق و چوبند رکھیں، وقت کے ساتھ چلیں، اور کبھی کبھار دشمن کو چکرا دینے کے لیے چال بدلیں۔
جذباتی طوفانوں سے بچ کر ذہنی سکون برقرار رکھیں۔ اپنے دماغ کو مشکلات میں جھونک کر اسے مضبوط کریں۔ غیرجانبداری سیکھیں تاکہ میدان جنگ صاف دکھائی دے۔ ہر چھوٹی بڑی تفصیل کی تیاری کریں تاکہ افراتفری میں بھی دل نہ دھڑکے۔ نظم و ضبط اور جرات کو اپنا زیور بنائیں۔ کمزوریوں کے مقابلے اپنی طاقت پر بھروسہ کریں، بے صبروں کو صبر سے جھیل لیں۔ خوف کے لمحات میں سادہ کاموں پر توجہ دیں۔ دشمن کو کمزور بچے سمجھیں تاکہ ان کا رعب دل سے نکل جائے۔
خود کو ایسی جگہ لے جائیں جہاں وسائل ضائع نہ ہوں اور آپ اپنی بہترین صلاحیت دکھائیں۔ ماضی کو یکسر بھول کر اپنی عقل و توانائی کے ساتھ میدان میں اتریں۔ اپنی پیٹھ دیوار سے لگائیں تاکہ لڑنے کی آگ بھڑکے۔ “پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں” والا جذبہ اپنائیں—ذہنی طور پر فرار کا راستہ بند کریں اور ایک مقصد میں ڈوب جائیں۔ موت کو قریب تصور کریں تاکہ زندگی کی عارضی نوعیت آپ کو بامقصد عمل کی طرف لے جائے۔ اس کے لیے پانچ کام کریں: سب کچھ داؤ پر لگا کر فیصلہ کن قدم اٹھائیں، تیاری مکمل ہونے سے پہلے عمل شروع کریں، انجان راہوں پر چلیں، بے کار رشتوں سے ناطہ توڑیں، اور خود کو دنیا کے مقابل کھڑا تصور کریں۔ دشمن کی ہمت اس وقت توڑیں جب وہ کمزور پڑ رہا ہو۔
تنظیم کی مضبوط بنیاد اور بلند حوصلہ حکمت عملی کی جان ہوتے ہیں۔ واضح رہنمائی اور مشترکہ مقصد کے بغیر سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ حوصلہ اور اجتماعی جذبہ ایسی طاقت دیتا ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔ گروہی سوچ سے بچیں اور واضح کمانڈ کی زنجیر بنائیں، جہاں پیروکار رہنما کے وژن پر یقین رکھیں۔ ایسی ٹیم بنائیں جو مقصد اور اقدار میں یکجا ہو۔ سیاسی چالوں سے ہوشیار رہیں جو اس زنجیر کو کمزور کرتی ہیں۔ چستی کے لیے اپنی فوج کو چھوٹے، خودمختار گروہوں میں بانٹیں، ہر ایک کو بڑے مقصد سے ہم آہنگ مشن دیں۔
حوصلہ تب عروج پر ہوتا ہے جب لوگ ذاتی مفادات کو چھوڑ کر اجتماعی مقصد کے لیے یکجا ہوں۔ انہیں ایک مشترکہ دشمن کے خلاف متحد کریں، خود قربانی دے کر رہنمائی کریں۔ مشترکہ مقصد کے گرد سب کو جمع کریں، ان کی بنیادی ضروریات پوری کریں، رہنمائی کی مثال بن کر دکھائیں، اجتماعی توانائی کو ایک سمت دیں، سختی اور نرمی میں توازن رکھیں، گروہی شناخت بنائیں، شکایت کرنے والوں کو نکال باہر کریں، اور جذباتی رشتوں کو مضبوط کریں۔
