مصنوعی ذھانت، جاپان، امریکہ اور یورپ کی تقدیر بدلنے جارہی ھے- جاپان میں کثیر عمر والے افراد کی کثرت ہے- امریکہ مزدوری کے لئے امیگرینٹ پر انحصار کرتا ھے- یورپ میں بھی ادھیڑ عمر افراد کی کثرت ،صنعتی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے- مصنوعی ذھانت ان ممالک کو باھر سے مزدور منگوانے کی ضرورت سے آزاد کر دے گی- انسانی سمگلنگ کے گھناؤنے دھندے میں کمی آئے گی-لیکن بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا، بھارت، فلپائن، الجیریا، مراکش میں بے روزگاری بڑھے گی-
پردیس میں جا بسنے والے دوسرے ملک کے شہری بن کر خوش ھوتے مگر وطن کی تشنگی بھی ساتھ رہتی ھے – گورا ،اوپرے لوگوں کو پسند نہیں کرتا مگر سستی مزدوری کا شیدائی ہے- انسانی سمگلنگ کے پیچھے گورے کا یہی لالچ ھے –
دیہات میں زندگی بسر کر رھے ایک عام آدمی نے اگر دنیا کا نظام سمجھنا ہے تو وہاں جہاں وہ زندگی بسر کر رھا ہے اردگرد نظر دوڑائے تو جو نظر آ رھا ہے یہی دنیا کا عکس ہے- امریکہ پنڈ کا چوھدری ھے، خواہ مخواہ کی تھانیداری-بڑی بڑی گاڑیاں ، پنچائتوں کی سربراھی-خاندانی زمینیں ، غریب ہاری اور فصلوں کی کمائی- ہاں البتہ ، میں جھوٹ نہیں بولنا چاھتا،لاس ویگاس والا ماحول مسنگ ھے یہاں گاؤں میں- بلکہ اس ماحول کی نقش نگاری بھی نقش نگاری بھی نہیں کی جاسکتی –
چوھدریوں کے بچوں کی طرح امریکہ کے پٹھو ممالک جیسا کہ برطانیہ، فرانس، سپین، جرمنی بھی بگڑی اولاد ہیں، ان کو بھی سستے مزدوری کرنے والے درکار ہیں – دیہاتوں میں ڈسپنسریوں اور سکول کی وہی پوزیشن ھے جو اقوام متحدہ کی: بالکل بیکار- دوکاندار آئی ایم ایف ھے جو مستوط طبقے اور غریب کو ادھار دے کے کھاتے میں لکھتا جاتا ہے- چین، چوھدری تو نہیں لیکن چنگے سوکھے، “ملک صاحب” کی طرح ہے- شہر میں نئی نئی فیکٹریاں لگائی ہیں اور تیزی سے چوھدری صاحب کے مقابلے میں الیکشن کی تیّاریاں کر رھے ہیں-
پڑھا لکھا نوجوان طبقہ، ویتنام، تائیوان کمبوڈیا اور سنگاپور کی طرح ترقی کی سیڑھیاں چڑھنا چاھتا ھے-انٹر نیٹ اور موبائل migraine تھا تو مصنوعی ذھانت مستقل درد سر –
روس کی وہی پوزیشین ھے جو علاقہ ڈی ایس پی کی- اثرورسوخ بھی ھے لیکن چوھدریوں اور ملک صاحب کا ڈر بھی- ادھر ادھر لڑکھتا رھتا ھے مگر ھے طاقتور-
گاؤں کے کنارے کوڑے کا ڈھیر ،جہاں پورا گاؤں کوڑا ڈالتا جا رھا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں وہی کوڑا کرکٹ ھے- سارے کوڑے کے قریب سے گزرتے ہوئے ناک پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں لیکن کوڑا ادھر ہی ڈالتے جا رھے ہیں-
شہروں میں ڈاؤن ٹاؤن پرانی عمارتوں اور روایات کو سنبھالے ہوئے ہیں- دنیا تقریبا آدھی اندھی ھو چکی ھے اور موبائل ان کے لئے سفید چھڑی کا کام کر رھا ہے- باقی لائن میں لگے ہیں کہ کب ان کی باری آتی ھے-
وہ دن دور نہیں چڑیا گھر کے جانور سیرو تفریح کے لئے اور انسان اور موبائل کا تماشا دیلھنے باھر نکلا کریں گے-
