انسان کے دماغ پر سب سے گہری ضرب پیسہ لگاتا ھے اور پھر ہوش نہیں آنے دیتا – حالانکہ احتیاطً دنیا کی ساری کرنسیاں کاغذ سے بنائی گئی ہیں-
قدرت نے تمام چرند پرند کے لئے کھانے پینے کی فری ڈلیوری کا انتظام کر رکھا ہے اور جو جہاں کہیں بھی ھےاسے وقت پر کھانا پہنچ رہاہے- وہ کھانا بھی کھا رھا ہے اور ساتھ موج مستی بھی- انسانوں کے ساتھ بھی قدرت کا یہی وعدہ ہے لیکن انسان کیونکہ باشعور ہے اور شعور کا کام یہی ھے کہ سکون سے بیٹھنے نہ دے، خوفزدہ کرے اور یقین کو متزلزل کئے رکھے- تو انسان نے شعور کو استعمال کیا اور پیسہ بنا لیا تاکہ لین دین میں آسانی رھے – شعور نے مزید ایک لکونہ دیا کہ ساتھ ہی مارکیٹینگ اور کیپٹلزم کو بھی متعارف کروا لو، کیا بار بار ترمیمیں کرتے رھو گے- شور ڈال دو کہ جو جتنی محنت کرے اسے اتنا مل جائے گا، نہ کم نہ زیادہ- اور راستے میں شوگر ملیں ، شیلر، فیکٹریاں اور آڑھتی بٹھا دو، دفتر کھولو اور اس میں باشعور افسر بٹھاؤ جو عوام کے کس بل نکالیں- ہر چیز کو پیسے سے تولو- پیسہ بھی تیز ھے- اسے جیسے ہی انسانی شعور کی حد کا علم ہوا، اس نے پہلے تو تُف کی، قہقھہ مارا اور ساتھ ہی بندے کی لگامیں تھامیں اور اسے سر پٹ دوڑا نا شروع کر دیا- بس آج شعور زدہ انسان آگے آگے ھے اور پیسہ جو کہ اتفاق سے شعور سے عاری ھے وہ اسے بھگا رھا ہے- چرند پرند مفت کھا پی رھے ہیں اور موج بھی کر رھے ہیں- نہ انہیں جان کا خطرہ ھے نہ چھت کی فکر- اور سرپٹ بھاگنے والے کو نہ روٹی وقت پر نصیب ھو رھی ھے، نہ کوئی چھت پسند آ رھی ھے- بے شعوری بھی بڑی نعمت ھے
