صدر ٹرمپ نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے، یہ بہت steep climb ہے اور اس کے دونوں طرف گہری کھائی ہے-مسئلہ امریکہ کے لئے، بلکہ امریکہ کے پیچھے آنے اور نہ آنے والوں کے لئے ھے- دنیا اگر اس راستے پر چلتی ہے تو ماری جاتی ہے اور اگر نہیں چڑھتی تو بھی مشکل ہے-
ترقی یافتہ ( core countries)ممالک کی ترقی کا راز صنعتی میدان میں ان کی اجارہ داری تھی- ترقی پزیر ممالک ( periphery countries ) ترقی یافتہ ممالک کو سستی مزدوری اور خام مال مہیا کر کے گزارہ کرتے تھے- ترقی یافتہ ممالک قیمتی مصنوعات بنا کر پوری دنیا سے منافع کماتے – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس arrangement یا لنک کو توڑ دیا ھے- یہ عالمی انتظام تھا جس کے ٹوٹنے سے دنیا میں تلاطم برپا ہے-پہلے امیگریشن قوانین، پھر ٹیرف وار اور اب غیر ملکی ھنر مند افراد کی hiring پر امریکی کمپنی کے ذمے ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی- امریکہ طاقتور ملک ھے اور اس کی پٹاری میں کیا کیا ہے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے-
پچھلے ھفتے صدر ٹرمپ کا دورہ برطانیہ اور امریکی صدر کو دیا گیا پروٹوکول عندیہ ہے کہ امریکی صدر کی پالیسیوں کو برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل ھے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو برطانیہ لگ بھگ یہی کر سکتا ھے جو امریکہ نے کیا-اگر ایسا ہوا تو صورتحال مزید گھمبیر ھو گی-
صدر ٹرمپ بہت تیزی سے عالمی سیاست میں اپنے مدّمقابلوں کے خلاف شطرنج کی چالیں چل رھے ہیں- اپنے مہرے بھی داؤ پر لگا رکھے ہیں اور مدّمقابل ممالک کو بھی ٹف ٹائم دے رکھے ہیں-غالبا بانس اور بانسری دونوں کو توڑنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اب منطقی انجام ، جسے recession کہا جا رھا ہے اس کی جانب تیزی سے سفر جاری ھے-
بھنور میں پھنسے بحری جہاز کا رخ موڑنا تقریبا ناممکن ھے-اس لئے عالمی تجارتی، سفارتی، سیاسی نظام ہل چکا ہے-جن ممالک کی ھنر مند افرادی قوّت کی کھپت اور مصنوعات کی برآمدات کا انحصار امریکہ پر تھا ان کے سر پر تو بجلی گر چکی ھے-
فی الحال نتائج کا یا مسقبل کے حالات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا مشکل ہے- کیونکہ کھیل بہت آگے جا چکاہے اس لئے واپسی کا راستہ معدوم ہے- اندرونی سیاست اور بیرونی سیاست میں تلاطم برپا ھے-
