جنریٹو مصنوعی ذہانت نے انقلاب برپا کر دیا ھے-جنریٹو مصنوعی ذہانت ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو نئے ڈیٹا یا مواد کو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،جیسے کہ تصاویر، تحریر، میوزک، یا ویڈیوز– یہ مصنوعی ذہانت کی ایک شاخ ہے جو ڈیٹا کے نمونوں کو سیکھکر اسے نئے بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، جنریٹو ماڈلز صارفین کے دیے گئےپرامپٹ کی بنیاد پر متن یا تصاویر بنا سکتے ہیں۔
جنریٹو مصنوعی ذہانت دراصل مشین لرننگ کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ مشین لرننگ مصنوعی ذہانت کا ایکوسیع شعبہ ہے جو کمپیوٹرز کو ڈیٹا سے سیکھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ مشین لرننگ کے تینبنیادی زمرے ہیں: نگرانی شدہ سیکھنا ، غیر نگرانی شدہ سیکھنا، اور کمک سیکھنا ۔ جنریٹو مصنوعی ذہانت زیادہتر غیر نگرانی شدہ یا نیم نگرانی شدہ سیکھنے پر مبنی ہوتی ہے اور خاص طور پر جنریٹو ماڈلز جیسے کہ ٹرانسفارمرزپر انحصار کرتی ہے۔
جنریٹو مصنوعی ذہانت کا بنیادی فرق یہ ہے کہ یہ صرف ڈیٹا کا تجزیہ یا پیش گوئی کرنے کے بجائے نیا موادتخلیق کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک روایتی مشین لرننگ ماڈل کسی تصویر کو شناخت کر سکتا ہے کہ یہبلی ہے یا کتا، جبکہ جنریٹو ماڈل ایک نئی تصویر بنا سکتا ہے جو بلی یا کتے کی طرح دکھتی ہو۔
لینگویج ماڈل کیا ہے؟
لینگویج ماڈل ایک جنریٹو مصنوعی ذہانت کا نظام ہے جو خاص طور پر زبان کے ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہوتاہے۔ یہ ماڈلز زبان کے نمونوں کو سیکھتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہوئے متن کو سمجھنے، پیش گوئیکرنے، یا تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ اس سے کوئی سوال پوچھتے ہیں،تو یہ لینگویج ماڈل آپ کے سوال کو سمجھتا ہے اور مناسب جواب تیار کرتا ہے۔ لینگویج ماڈلز عام طور پربڑے پیمانے پر ڈیٹا سیٹس پر تربیت پاتے ہیں،
مصنوعی ذہانت کا معیشت میں بڑھتا ہوا کردار
مصنوعی ذہانت آج کے دور کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجی ہے، جو نہ صرف ہمارے روزمرہ کے طرز زندگیکو بدل رہی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز مختلفشعبوں صحت، تعلیم، مالیات، مینوفیکچرنگ، زراعت میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت معیشت کو کئی طریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔ سب سے پہلے، یہ پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ھے ۔ آٹومیشین ،خودکار نظام اور الگورتھم کی بدولت کمپنیاں اپنے عمل کو تیز، سستا، اور زیادہموثر بنا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سے مصنوعی ذھانت سے چلنے والی روبوٹکسمشینیں دن رات بغیر تھکے کام کرتی ہیں
مصنوعی ذہانت نئے کاروباری مواقع پیدا کر رہی ہے۔ جنریٹو مصنوعی ذہانت جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی نےانقلاب برپا کر دیا ہے۔ فری لانس رائٹرز، گرافک ڈیزائنرز، اور حتیٰ کہ فلم ساز اب ٹولز کا استعمال کر کےکم وقت میں اعلیٰ معیار کا مواد تیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذھانت سے چلنے والی ایپلی کیشنزجیسے کہ ذاتی نوعیت کی مارکیٹنگ اور صارفین کی ترجیحات کا تجزیہ صارفین کے تجربات کو بہتر بنا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہے۔ اگرچہ کچھ روایتی ملازمتیں خودکار ہو رہیہیں، لیکن نئی ملازمتوں کو بھی جنم دے رہی ہے، جیسے کہ ڈیٹا سائنسدان، ماہرین، اور الگورتھم ٹرینرز۔عالمی معاشی فورم کے مطابق، 2030 تک مصنوعی ذھانت کی بدولت لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کو نئی مہارتوں کی ضرورت ہوگی۔
مصنوعی ذہانت کی ترقی نے گزشتہ چند سالوں میں تیزی پکڑی ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی دستیابی، کمپیوٹنگطاقت میں اضافہ، اور جدید الگورتھم جیسے کہ ڈیپ لرننگ نے کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے۔
لینگویج ماڈلز نے زبان کی پروسیسنگ میں انقلاب برپا کیا ہے۔ یہ ماڈلز نہ صرف سوالات کے جواباتدیتے ہیں بلکہ تخلیقی تحریریں، کوڈ، اور حتیٰ کہ شاعری بھی بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح، تصاویر بنانے والےماڈلز جیسے کہ نے بصری فنون میں نئی جہتیں کھول دی ہیں۔
اب امراض کی تشخیص، ادویات کی ترقی، اور مریضوں کی نگرانی میں استعمال ہو رہا ہے۔ الگورتھم ایکسرےاور تصاویر کا تجزیہ کر کے کینسر جیسے امراض کی ابتدائی تشخیص کر سکتے ہیں۔
خود کار گاڑیاں مستقبل میں نقل و حمل کے نظام کو بدل دیں گی۔ اسی طرح، جیسے ادارے سے چلنےوالے ڈرونز اور گوداموں کے نظام استعمال کر رہے ہیں۔
الگورتھم اب سرمایہ کاری کے فیصلوں، خطرے کے تجزیے، اور دھوکہ دہی کی روک تھام میں اہم کردارادا کر رہے ہیں۔ عالمی بینکوں نے کو اپنے صارفین کے لیے ذاتی نوعیت کی خدمات فراہم کرنے کے لیےاستعمال کیا ہے۔
مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کردار اور بھی نمایاں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، عالمی معیشت میں پندرہ کھرب ڈالرسے زیادہ کا اضافہ متوقع ھے-کرت
مصنوعی ذھانت ہر صنعت کا لازمی حصہ بن جائے گی، چاہے وہ زراعت ہو، تعلیم ہو، یا تفریح۔ مصنوعی ذھانت سے چلنے والے زرعی روبوٹ فصلوں کی کاشت اور کٹائی کو بہتر بنائیں گے، جبکہ تعلیمی شعبے میں ذاتینوعیت کی تعلیم عام ہو جائے گی۔
اخلاقی اور قانونی چیلنجز بڑھ جائیں گے جیسے کہ ڈیٹا کی رازداری، تعصب سے پاک الگورتھم، اور مصنوعی ذھانت کے فیصلوں کی شفافیت۔ عالمی سطح پر حکومتیں کے استعمال کے لیے قوانین بنانے پڑیں گے ۔
