ہمارا قومی مزاج ھے کہ ہم امتحان کی تیاری آخری روز کرتے ہیں اور صبح امتحانی مرکز وقت پر پہنچ جاتے ہیں- لیکن کسی تقریب میں شرکت کے لئے دو تین گھنٹے پہلے تیار ہونا شروع ھوتے ہیں اور مقرّرہ وقت سے لگ بھگ دو گھنٹے بعد پہنچتے ہیں-
جاپان کے ایک مشہور ریسلر انتونیو انوکی کی پاکستان کے اکیّ پہلوان اور جھارا پہلوان کے درمیان کشتیاں بہت مشہور ہوئی – اکیّ پہلوان کو انوکی نے چند منٹوں میں ہی پچھاڑ دیا- گاما اور امام بخش پہلوان کا خاندان برصغیر میں کشتی کا بہت بڑا نام تھا- برصغیر کے نامور پہلوان گھرانے نے انوکی سے بدلا لینے کے لئے جھارا پہلوان کو تیار کیا- اس زمانے میں gym والی مشینیں نہیں تھیں تو جھارا ( مرحوم) کو تیار کرنے کے لئے داؤ پیچ کے علاوہ سینکڑوں من گوشت ، دیسی گھی ، بادام اور کشتوں کی مدد لی گئی -اختر حسین شیخ اپنی کتاب ’داستان شہ زوراں‘ میں لکھتے ہیں کہ
جھارا کو رات دو بجے اٹھا دیا جاتا۔ حالانکہ تین بجے یا چار بجے اٹھایا جا سکتا تھا لیکن مقصد ٹرینگ کے علاوہ جھارا مرحوم کو تنگ کرنا بھی تھا-جھارا دو کلو گوشت، تین کلو گوشت کی یخنی، دو کلو دودھ اور پھلوں کا جوس پیتا۔ پھر دو کلو بادام کی سردائی، ڈنٹر پیلنے کے دوران چاندی کے ورق، سچے موتی اور چھوٹی الائچی کا مرکب آدھا کلو مکھن- گوشت، بادام، مکھن اور فروٹ کو ملا کر یہ کوئی دس کلو پروٹین بنتی ہے- اس میں سٹارٹر شامل نہیں – اللہ جانے تربیت کے لئے وقت کب نکالتے تھے- جھارا پہلوان مرحوم کی خوراک رنگ لائی اور میچ اس نے جیت لیا لیکن پھر وہی ھوا جیسا ہمارے ہاں ہوتا ھے، یہ جیت متنازعہ بنا دی گئی-جھارا پہلوان صرف اکتیس سال کی عمر میں وفات پا گئے-اللہ تعالی درجات بلند کرے-
ہر وہ میدان جہاں سائنس، ڈیٹا، ربط، پیشہ وارانہ مہارت ،تحقیق، انتظامی صلاحیتیں درکار ہوں وہاں ہم جوگاڑ لگاتے ہیں -خیر نتیجے تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں – ہر کھیل اب ایک کاروبار ہے، بیوپار ہے- انتہائی بہترین مائنڈ سیٹ اور تکنیک کے حامل کھلاڑیوں کو مقابلوں کے لئے چنا جاتا ہے اور پھر سائنسی بنیادوں پر ان کی مہارت اور سوچ کو نکھار کر میدان میں اتارا جاتا ہے- مختلف کھیلوں کے صف اوّل کے کھلاڑی رونالڈو، فائیک بلڈیا، میسی، ورات کوھلی, سٹیو سمتھ، الکاراز، راجر فیڈرئر، نادال، لی بورن جم، مائیکل جورڈن، یہ سب جادوئی کھلاڑی اسی تربیت کا شاخسانہ ہے-
کرکٹ، اسکواش ، ھاکی اور کشتی 70,80 90 کی دھائی میں پاکستان کے مقبول کھیل تھے اور تینوں میں پاکستان عروج پر تھا-
یہ اکیسویں صدی کی تیسری دھائی ہے جہاں ہر چیز آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اور ڈیٹا استعمال کر کے کی جاتی ہے- جیت کے لئے سب سے پہلی ضرورت “جیتنے کی امنگ ہے “-
پاکستان کی کرکٹ ٹیم جس شکست خوردہ سوچ کے ساتھ میدان میں اترتی ہے، یہ مائنڈ سیٹ سال ہا سال کی ھڈ حرامی اور کرکٹ کے کھیل میں سیاست کی مداخلت ہے- یہ مائنڈ سیٹ ایک دھائی سے چلتا آ رھا ہے- یہ دو تین مہینے اور اکیلے بندے کا کام نہیں-اس کی ابتداء سری لنکن ٹیم پر لاھور میں دھشت گرد حملہ اور بھارت کا پاکستان میں ایک دھائی سے بھی زائد عرصے تک آئی سی سی پر غلبہ اور غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان آ کر کرکٹ نہ کھیلنے کی ترغیب دینا بھی ہے -پی سی بی کرکٹ کا کم اور کلاس روم کا بورڈ زیادہ لگتا ہے- جب دل کرتا ہے، ڈسٹر پھیر کو صاف کر دیتے ہیں- پی سی بی ملک کا واحد ادارہ ہے جو امیر بھی ہے ،ذرخیز بھی اور نکما بھی-یہ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ اپنابھی بہت خیال رکھتا ہے- ملک میں کرکٹ کی ترویج ان کی ترجیح نہیں اس لئے کرکٹ تالاب کے پانی کی مانند گدلا گئی ہے-یہ ادارہ بے شمار کماتا ہے اور سارے کا سارا اپنے اوپر خرچ کرتا ہے- ٹیم کی سلیکشن کے لئے طوطا فال نکالتا ہے-
چھوٹی چھوٹی ٹیموں سے میچ ہارنے کی ہماری عادت پرانی ہے، یہ کوئی انہونی نہیں- ہم بنگلہ دیش زمبابوے اور افغانستان سے بھی ہار چکے ہیں – سوچ کو بدلو، کپتان کو نہیں-
۰-۰-۰-
