اگر وقت کی تقسیم سیکنڈ ، منٹوں، گھنٹوں، دن، رات، ھفتوں ، مہینوں، سالوں میں نہ ہوتی تو ہم گُم ہو گئے ہوتے-
وقت کا Context زندگی کی اصل ہئیت ہے- وگرنہ نہ ماھانہ تنخواہ ھوتی، نہ ناشتہ، نہ لنچ اور ڈنر ھوتا- نہ عمر ہوتی ، نہ جوانی نہ بڑھاپا ھوتا-اگر یہ context نہ ہوتا تو ہم گزرے کل اور آنے والے کل کا اندازہ لگانے سے قاصر رہتے-وقت ایک سیڑھی ہے – وقت کی پابندی دراصل کامیابی اور ناکامی کاتعّین کرتی ھے- وقت کی پابندی نہ کرنے کا مطلب ھے کہ قدرت جس سمت میں آپ کو لے کر جانا چاھتی ھے آپ اس سے انحراف کر رھے ہیں-
جہاں وقت کی قید نہیں وہاں زندگی نہیں موت ہے- اگر کسی خاندان نے زندگی بھر بھٹہ مزدوری کر کے اینٹیں ہی بنانی ہیں تو وہ ایّام اور مہینوں کی قید سے آزاد صرف غلامی کریں گے- یہ وقت اللہ تعالی کا انسان کے لئے بہترین تحفہ- یہ وجہ ہے ترقی، تنزلی، راحت اور سکون کی- وقت کا جب تعّین ہو جائے تو اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ھے جتنی آکسیجن-
کال کوٹھڑی کے اندھیرے میں وقت رک جاتا ہے – اسی لئے جرم کی سزا قید کی شکل میں دی جاتی ہے- بے وطنی بھی بغیر وقت کے ہے، اسی لئے بہت تکلیف دہ ھے-
فوجی تربیت میں سب سے زیادہ اور سب سے پہلی ترجیح وقت ھے- مغرب کی ترقی میں وقت کی پابندی کا بہت اہم کردار ھے- تزویراتی جنگی حکمت عملی میں وقت اور جگہ کی انتہائی اہمیّت ھے- گزرے وقت سےسبق سیکھ کر آنے والے وقت کا صیح اندازہ لگانے والے کامیاب سٹریٹیجسٹ مانے جاتے ہیں-
