موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں سنگین شکل اختیار کرچکے ہیں۔ں:
جنگلات کی کٹائی اور چراگاہوں کی تباہی سے واٹر شیڈز کمزور ہوئے- 1992، 2010 اور 2025 کےسیلاب بہت شدید تھے۔ کالام سوات اور بونیر میں کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی ھے
جنگلات کی کمی سے ڈھلوان غیر مستحکم ہوگئی ھے، جس سے بٹگرام اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈز عام ہے۔اس سے قراقرم ہائی وے جیسے اہم راستے بند ہوئے۔
ننگی پہاڑیاں 5 سے 8 ڈگری زیادہ گرم ہونے سے مون سون کی ہوائیں تیزی سے بلند ہوتی ہیں، جس سےباجوڑ اور مانسہرہ میں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔
گلگت بلتستان میں جنگلات کا رقبہ 4 فیصد سے کم ہونے سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا، جواچانک سیلاب کا باعث بنتا ہے۔
چراگاہوں کی بایو ماس پیداوار 20 سے 30 فیصد رہ گئی، جس سے مویشیوں پر انحصار کرنے والے ایکتہائی گھرانوں کی معیشت متاثر ہوئی۔
جنگلات کی کمی سے مقامی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جو زرعی پیداوار اور پانی کی دستیابی کو متاثر کرتا ہے۔
جنگلات کی تباہی سے جنگلی حیات اور پودوں کی اقسام خطرے میں ہیں، جو ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچاتیہے۔
سیلاب، لینڈ سلائیڈز اور چراگاہوں کی کمی سے زراعت، سیاحت اور دیہی معیشت کو شدید دھچکا لگ رہاہے۔
فوری شجرکاری، لکڑی کی مافیا کے خلاف سخت کارروائی اور پائیدار پالیسیوں کے بغیر یہ اثرات مزید سنگینہو سکتے ہیں۔ مؤثر اقدامات سے ان خطرات کو کم کر کے مستقبل محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
جنگلات کی کٹائی، چراگاہوں کی تباہی، جنگلاتی آگ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے تباہ کن سیلاب، لینڈسلائیڈنگ اور کلاؤڈ برسٹ کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ 1992 سے 2025 تک جنگلات کا رقبہ 3.78 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا، یعنی 18 فیصد کمی ہوئی۔ سالانہ کٹائی 1992 میں 40 ہزارہیکٹر تھی جو 2025 میں کم ہو کر 11 ہزار ہیکٹر رہ گئی، لیکن صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ چراگاہوںکا رقبہ 60 فیصد سے کم ہو کر 58 فیصد رہ گیا، اور ان کی بایو ماس پیداوار 20 سے 30 فیصد تک گر چکیہے۔
جنگلات ماحول، معیشت اور قومی سلامتی کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ یہ بارش کے پانی کو جذب کر کے سیلابروکتے ہیں، زیر زمین پانی کو ری چارج کرتے ہیں، زرعی زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں، اور مٹی کی زرخیزیبرقرار رکھتے ہیں۔ یہ آب و ہوا کا توازن قائم رکھتے ہیں، درجہ حرارت کم کرتے ہیں، کاربن ذخیرہ کر کےموسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرتے ہیں، اور دیہی آبادی کو چارہ، ایندھن، پھل، دوائیں اور سیاحت کےمواقع فراہم کرتے ہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ساتھ یہ سیلاب، لینڈ سلائیڈ اور قحط سے بھی بچاؤکرتے ہیں۔
چترال میں 1992 سے 2009 تک 3700 ہیکٹر سے زائد جنگلات ختم ہوئے، اور 2030 تک مزید 23 فیصد کمی متوقع ہے۔ کالام سوات میں 1980 اور 1990 کی دہائی میں بڑے پیمانے پر لکڑی کاٹنے سےدریائے سوات کے کیچمنٹ ایریا کو نقصان پہنچا، جس نے 1992 اور 2010 کے سیلابوں کو مزید تباہ کنبنایا۔ بونیر میں اگست 2025 کے کلاؤڈ برسٹ نے گھروں، کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ بٹگرام میںجنگلات کی کٹائی اور نازک اراضی نے لینڈ سلائیڈز کو جنم دیا، جس سے قراقرم ہائی وے بند ہوئی۔ باجوڑمیں 2025 کے کلاؤڈ برسٹ نے جانی و مالی نقصان کیا، جبکہ مانسہرہ میں بار بار سیلاب اور لینڈ سلائیڈزآئے۔ گلگت بلتستان میں جنگلات کا رقبہ 4 فیصد سے بھی کم رہ گیا، جس سے یہ خطہ جنگلاتی آگ اورگلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات سے دوچار ہے۔
جنگلات کی کمی سے پہاڑیاں 5 سے 8 ڈگری زیادہ گرم ہوتی ہیں، جو مون سون کی ہواؤں کو تیزی سے بلند کرکے کلاؤڈ برسٹ کا باعث بنتی ہیں۔ جڑوں کے بغیر مٹی کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ اورگلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک تہائی گھرانے مویشیوں پرانحصار کرتے ہیں، لیکن چراگاہوں کی پیداواریت 20 سے 30 فیصد رہ گئی ہے، جس نے دیہی خاندانوں کوغیر پائیدار طریقوں پر مجبور کر دیا۔
اگر فوری بحالی اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو سنگین ماحولیاتی اور معاشی خطرات کا سامناہوگا۔ مؤثر پالیسی اور عملدرآمد سے ملک کا مستقبل محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
