{"tiktok_developers_3p_anchor_params":"{"source_type":"vicut","picture_template_id":"","client_key":"aw889s25wozf8s7e","capability_name":"retouch_edit_tool"}","exportType":"image_export","data":{},"editType":"image_edit","source_type":"vicut","pictureId":"F87472A5-9E98-4CDA-88E4-ACCDC15FF6C0"}
ہم قومی اثاثے اپنی جاگیر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور احتجاجوں میں تباہ بھی کرتے ہیں – اعلی سرکاری افسران کی رہائش پر درجن بھر ملازمین، پانچ چھ گاڑیاں ،سرکاری وسائل انتہائی بے دردی سے استعمال کرتے ہیں-
۲۰۰۹ میں ایک مغربی ملک میں تعلیم کے حصول کے لئے کچھ وقت گزارنے کے بعد جب واپسی کی تیاری شروع ھوئی تو انتظامیہ نے پوچھا کہ کس دن اور وقت کو ہم ہوٹل سے آپ کو ایئر پورٹ ڈراپ کریں – میں نے ایک عزیز کے گھر کا ایڈریس دیا جو قریب ہی تھا مگر ایئر پورٹ کے راستے میں نہیں تھا- انتظامیہ نے معزرت کر لی کہ یہ ممکن نہیں، ہم صرف ھوٹل سے آپ کو پک کر سکتے ہیں-
وہاں سرکاری دفاتر بلکہ کسی بھی دفتر میں نہ چائے پلاتے نہ چائے پانی لیتے ہیں-
ایک اور موقع پر برسلز ، بلجیئم سے نیٹو ھیڈ کوارٹر کا فیلڈ آفس دیکھنے جانا تھا راستے میں واٹر لو پڑتا تھا ( جہاں نیپولین کو شکست ھوئی)- گروپ نے واٹر لو رکنے کی درخواست کی تو ہمارے گائیڈ نے معزرت کی کہ جب تک ھیڈ کوارٹر سے اجازت نہ لیں یہ ممکن نہیں- ہماری درخواست پر گائیڈ نے ھیڈ کوارٹر سے اجازت لی اور پھر ہم واپسی پر “واٹر لو” رکے-
ہم اکثر موازنہ کرتے ہوئے مغربی معاشروں کی ترقی کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں تو ہم کیوںنہیں؟ ان کا نظام تعلم دیکھ لیں ،ان کے ہسپتال، بجلی ، پانی کا نظام دیکھ لیں سب کتنا اعلی ہے– ہم نےکبھی نہی کہا ان کی عوام دیکھ لیں کتنی سلجھی ہوئی ہے، کتنی ذمہ دار ہے، کیسے قانون کی پاسداری کرتیہے–
مغرب کی تاریخی حیثیت کا حوالہ مضبوط معیشیت اور اعلی تعلیم ہے– مشرق میں ابھی ابھی پیسہ آیا ہےاور وہ بھی ھمارے ارگرد ہی گھوم رہا ہے ھمارے ھاں نہیں پہنچا- یعنی مشرق کا کچھ حصہ اب جا کر نودولتیا ہوا ہے– ہمارے ہاں کی تعلیم کی حالت اب آپ سے کوئی ڈھکی چھپی تو ہے نہیں ، ہم سب نےاپنی اعلی تعلیم کہاں کہاں حاصل کی ھے وہ ہمارے ڈومیسائل میں درج ھے- زرعی ماحول میں پلے بڑھےتعلیم یافتہ افراد، سکول انے سے پہلے اور سکول سے چھٹی کے بعد، بالترتیب بھینسوں کا دودھ دھو کر آتےتھے اور جا کر چارے کا انتظام بھی کرتے تھے–
بات اگر تعلیمی قابلیت کی ھے تو آپ خود اپنا امتحان لے لیں– سوال بنانا ہی نہی آئے گا– یعنی ہمیں اتنابھی شعور نہیں کہ ہم نے پوچھنا کیا ہے– جواب کا تو رہنے ہی دیں– ہمیں ٹوٹل کرنا پڑ جائے تو آج بھی“دو دونی چار“، “تن دونی چھ” کا سہارا لینا پڑتا ہے– درخواست لکھنے کے لئے ” بخدمت جناب ھیڈ ماسٹر ——” والا فارمیٹ رائج تھا اور آج بھی وہی چل رھا ہے –
ہمارے ہاں چیزوں کی کمی نہیں، ہمیں ان کا استعمال نہیں آتا– ہمیں سرکاری اثاثوں کا دریغ نہی ہے– ہمارے بجٹ میں ۲۲۰۰ ارب روپے کی سبسڈی حکومت دیتی ہے– کس کو دیتی ہے وہ الگ معاملہ ہے– حکومتی سطح پر مس گوورننس ہے تو عوامی سطح پر ڈنگ ٹپاؤ – مقابلہ سخت ہے- سب مل کر ریاست کااستحصال کر رھے ہیں اور ساتھ ساتھ الزام تراشیاں کر کے اپنے آپ کو دھوکا بھی دیتے جا رھے ہیں–
مغرب نے تو کبھی سوچا بھی نہی ہو گا کہ “گھوسٹ سکول ” کیا ہوتا ہے– ہمارے ہاں دھائیوں سے ایکدو نہیں سینکڑوں ،ھزاروں گوسٹ سکول چل رھے ہیں – پتا نہیں کتنی گھوسٹ ڈسپنسریاں اور رورل ھیلتھ سنٹر دھوکہ دے رھے ہیں
اگر مغرب کو بھی پٹواری میسر آ جائے تو انہیں لگ سمجھ جائے کہ معاشرہ بنتا کیسے ہے–
سیاست اور ادب میں بڑے بڑے نام ابھی ناپید ھوتے جارھے ہیں– مغرب میں انگلش لٹریچر کو بہتپزیرائی ملی ھے – سٹیفن کنگ ، سٹین لی، پاؤلو کولیھو ، نوم چومسکی، سٹیفن کووی، اور بہت سے دوسروںنے ادب کو سنبھال رکھا ھے–سیاست میں البتہ ان کو ھیرے ملنا شروع ہو گئے ہیں –اتنے منظممعاشرے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اگر معمولات یا مراعات میں تھوڑا سا خلل بھی آ جائے توپریشان ھو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں– مضبوط معاشروں کی یہی خوبی ہے کہ انسانی حقوق کا بہت خیالرکھتے ہیں– ھمارے ہاں سیلابی پانی اور مہنگائی کٹی پتنگ کی طرح ہاتھ سے نکل چکی ھے- لیکن مجال ہےحکومت کے کانوں پر جوں بھی رینگے–
