میسلو نے انسانی ضرورتوں اور شخصی ترقی کا ایک نظریہ پیش کیا تھا- اس نظریے کے پانچ درجے ہیں -اگر انسان کی بنیادی ضروریات، چھت، لباس، ہوا، کھانا اور پانی پوری ہو جائیں تو پھر اسے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت، صحت، جائیداد کی ضرورت ستانے لگتی ہے- اگلی منزل محبت، تعلقات اور دوستی کی ہوتی ہے- جب یہ سب حاصل ہو جائے تو انسان میں اعتماد آ جاتا ہے- وہ منفرد نظر آنا چاہتا ہے، عزت و احترام چاہتا ہے، اور مزید آگے بڑھنا چاھتا ہے-آخری منزل میں پھر بھرپور طریقے سے میدان میں کود پڑتا ھے تاکہ دنیا پر اپنا آپ ثابت کرسکے- اس آخری سٹیج کو میسلو self actualization کہتا ہے-
اس نظریے کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا- یہ من و عن ویسا ہی ھے جیسا پیش کیا گیا- یہ شخصی زندگی کا ایک بھر پور خاکہ ھے اور ہم سب ان مراحل سے گزرتے ہیں-
جب ماضی میں وسائل زیادہ تھے میسلو کی تھیوری کا پہلا پڑاؤ بنا بنایا مل جاتا تھا- نوجوان دوسرے تیسرے پڑاؤ سے زندگی کی جنگ لڑنا شروع کرتے تھے اور پھر اوپر کی طرف سفر شروع ہوتا اور اکثر لوگ آخری منزل پر پہنچ جاتے-
اب یہ سیڑھی چڑھنا ہر کسی کے بس کا نہیں- اسی سیڑھی کے تمام پڑاؤ وہی ہیں لیکن ان کی ضروریات اور اس کے حصول میں تبدیلی آئی ہے-
موجودہ دور کی سب سے بڑی مشکل ، کھانا، صاف پانی، چھت، تازہ ہوا ہے، حالانکہ یہ پہلا پڑاؤ ھے اور ریاست یہ بنیادی ضرورت بھی پوری کرنے سے قاصر ھے- نوجوان طبقہ اسی لئے frustrated ھے کہ چوتھی اور پانچویں منزل تک کیسے پہنچے گا- ہنر مند نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے قاصر ہیں- تیسری منزل محبت اور تعلقات بھی virtual ہے- نہ رشتے مضبوط رھے نہ ہی بنیادی ضرورتیں مہیا ہیں تو self actualization اور عزت نفس کیسے ملے گی-
یہ ایک گھمبیر صورتحال ھے جو کہ بہت توجہ طلب ھے- پہلی دفع غالبا میسلو کی تھیوری بھی پریشان دکھائی دے رہی ھے-
