۱ ۲ ویں صدی مکمل طور پر ٹیکنیکل دور ہے- دھائیوں کا کام منٹوں اور سیکنڈوں میں ہو رہا ھے- جب آپ انٹر نیٹ، اور مصنوعی ذھانت سیکھنا شروع کریں تو SEO سے شروع کریں- پھر مصنوعی ذھانت کی طرف آئیں- چیٹ جی پی ٹی کو اگلی سٹیج کے لئے سنبھال کر رکھیں-
وائرس کی طرح عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے چھوٹے چھوٹے ٹرانزسٹر ، چپ کے ذریعے دنیا کو چلا رہے ہیں- پچھلے چند سالوں میں معجزاتی ترقی دیکھنے کو مل رھی ھے- جو لوگ انٹر نیٹ کو دل جمعی سے سیکھ کر صحیح سمت میں استعمال کر رھے ہیں وہ اپنے اور اپنے خاندان کی زندگی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں- میں ایک ڈیجیٹل کمپنی چلاتا ہوں -میرے ساتھ کام کرنے والے درجنوں مرد و حضرات آج باعزت اور بہترین روزگار کما رھے ہیں-
انٹر نیٹ اور مصنوعی ذھانت سیکھنے والا علم ھے-اس کارٹّے سے کوئی تعلق نہیں- جس طالب علم کو سیکھنے کا شوق ھو ، کمپیوٹر اس کا ہتھیار ہے- یہ کلیہ یاد کر لیں، رٹ لیں ” اگر آپ سیکھ گئے تو آپ جیت گئے”- اگر آپ کے پاس علم بھی ھے اور آپ سیکھ بھی گئے تو آپ کو کوئی شکست نہیں دے سکتا-
اس فقرے میں ایک لفظ ھے ” سیکھنا” اس کا نمبر یا گریڈنگ سے کوئی تعلق نہیں- یہ پریکٹیکل manifestation ہے- یعنی پہلے سمجھنا اور پھر سیکھنا- سمجھنے کے لئے محنت اور حاظر دماغی اور سیکھنے کے لئے بار بار پریکٹس چاہیے- اگر آپ سیکھ گئے اور سمجھ بھی گئے تو گریڈ خود بخود مل جائے گا-
سمجھنے اور سیکنے کا گریڈنگ سے کوئی تعلق نہیں اور آج کی دنیا میں کامیابی کا یہی ایک کلیہ ھے، “سمجھنا اور سیکھنا “- کاروبار بھی سمجھنے، سیکھنے اور حاظر دماغی سے کام لینے والا کھیل ھے- جب آپ انٹر نیٹ، اور مصنوعی ذھانت سیکھنا شروع کریں تو SEO سے شروع کریں- پھر مصنوعی ذھانت کی طرف آئیں- چیٹ جی پی ٹی کو اگلی سٹیج کے لئے سنبھال کر رکھیں- ان تین منازل کے بعد آگے والا راستہ آسان ھے- وی لاگ یا انفلوئنسر بالکل بھی کامیابی کا راستہ نہیں-
