جنگ میں توپخانہ مرکزی اور فیصلہ کردار ادا کرتا ہے -جب جنگ میں توپخانے کا استعمال شروع ہو جائے تک تو اس کا مطلب ھے “گل ودگئی اے”- اور جب جنگ لڑاکا طیاروں تک پہنچ جائے تو سمجھ جائیں “گل ہتھوں نکل گئی اے “- جس طرح رافیل ہوا میں اڑا کر بھارت نے گل اپنے ہاتھ سے ایسی نکلالی کہ واپس آنے کی نہیں-اب مجبوراً بھارت نے اپنے ایئر چیف کو انفارمیشین کے میدان میں” انّے واہ” اتار دیا ھے-بھارت فضا میں اور زمین پر ھزیمت اٹھانے کے بعد اب “ورچئل میدان” میںں قسمت آزما رھا ہے- بھارت کے قابو نہ امریکی مارکیٹ کا ریٹ آ رھا ہے، نہ ہی راہول گاندھی اور نہ ہی تباہ ہونے والی رافیل سمیت جنگی جہازوں کی شکست فاش کی ہزیمت-
پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ سے ایک ھفتہ پہلے یونٹ کی allocation بہت دلچسپ مرحلہ ہوتا ہے- کیونکہ باقی نوکری اس یونٹ میں گزارنی ہوتی ہے تومستقبل کی نوید سننے کے لئے ہال میں سب کیڈٹ براجمان ہوتے ہیں- یونٹیں الاٹ کرنے والا افیسر ایم ایس برانچ، جی ایچ کیو سے جاتا ہے- افسر جی سی نمبر پکارتا ہے ، کیڈٹ کھڑا ہو جاتا ہے، افسر ،یونٹ اور یونٹ کی جگہ بتاتا ھے اور کیڈٹ نڈھال سا ہو کر یا خوشی کے آنسو لئے کرسی پر گر سا جاتا ہے-مجھے الاسد بٹالین ( ۳۰ آزاد کشمیر رجمنٹ) الاٹ ھوئی اور ساتھ ہی افسر نے بولا BDA- انفنٹری یونٹ ملنے پر بے حد خوشی ہوئی، لیکن BDA نے کنفیوژ کر دیا- میں خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ بیٹھ گیا اور دائیں بائیں دیکھا کہ شاید ان کو معلوم ھو لیکن ساتھ بیٹھے دونوں پلاٹون میٹ توپخانے کی الاٹمنٹ سے گھائل ھو چکے تھے اور کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھے- یونٹیں ملتی جا رھی تھیں ، خوشی اور غم ساتھ ساتھ پھلجڑیاں بکھیر رھے تھے- لیکن میرے دماغ میں بی ڈی اے گھوم رھا تھا-
یونٹوں کی الاٹمنٹ شادی کے کھانے کی طرح ہے- مٹھے اور لونے چاولوں کی دیگ کے ساتھ پالک پنیر بھی ہوتی ہے- آرمڈ کور کو مٹھے چول کہنے میں کوئی حرج نہیں- کیونکہ سب سے زیادہ آرمڈ کور والوں کے چہرے ہی چمک رھے ہوتے ہیں- انجنئرز اور انفنٹری والے بھی خوش ہوتے ہیں ، لگتا ہے مٹھے اور لونے چولوں کی دونوں دیگیں کھا کے نکلے ہیں- ٹیکنیکل اور سروسز مٹھے، لونے چولوں کی دیگ اور ربڑی سمجھ لیں؛ خوش باش – کچھ کو پالک پنیر بھی کھانی پڑتی ھے-
جب یونٹ الاٹمنٹ کی عظیم تقریب اختتام پزیر ھوئی تو ہم نے BDA کی کھوج شروع کر دی- ہمیں تلاش کرنا تھا کہ یہ پر اسراریت کیوں؟ کہیں ہماری قابلیت کی وجہ سے تو ہماری تعینیاتی کی جگہ کو خفیہ نہیں رکھا جا رہا کہ مبادا دشمن کو علم ہوجائے کہ ہمیں کس سٹریٹجک صورتحال میں استعمال کیا جائے گا-تھوڑا فخر سا محسوس ہوا اور حیرانی بھی کہ ہم میں کون سی ایسی قابلیت ھے کہ ہمیں بھی نہیں بتایا جا رھا کہ ہمیں کہاں بھیجا جا رھا ہے- ہماری طرح کے کچھ اور بھی سٹریٹجک اثاثے بوکھلائے ہوئے BDA کو ڈھونڈتے پھر رھے تھے-
کوئی دو تین گھنٹے کی تگ و دو کے بعد یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ BDA کوئی خیر کی خبر نہیں- ہمیں شاید دشمن کے دو بدو جنگ کے لئے چنا گیا تھا-یا اللہ یونٹ کا اسٹیشن کیوں نہہں بتایا کا رھا؟ یہ BDA کا کیا ماجرا ہے-بالاخر، ایک سرا ہاتھ آیا-گھومتے پھرتے ، ایک پلاٹون کمانڈر نے کوڈ توڑا کہ یہ Border Defence Area کو کہتے – آدھے کوڈ سے ہیجان اور بڑھ گیا- بارڈر ڈیفینس ایریا میں کہاں؟ لیکن یہ کلئر ہو گیا کہ ویزا سیدھا لائن آف کنٹرول کا ہے آگے کس ایئر پورٹ پر لینڈ کرنا ھے وہ پتا چل ہی جائے گا- خدا خدا کر کے دو تین دن کی تگ و دو کے بعد عقدہ کھلا کہ ہم نے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جانا ہے-
جیسے love میرج اور arranged میرج میں شادی کے کچھ ماہ بعد فرق ختم ھو جاتا ہے اسی طرح کیڈٹ کو کونسی arm یا یونٹ ملی ھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا- جن میں دم ہوتا ہے وہ اوپر نکل جاتے ہیں -توپخانے کا ذکر آیا تو بتاتا چلوں ہمارے کورس میں چار میجر جنرل اور ان میں سے پھر دو تھری سٹار توپخانے کے ہیں-
پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ کے لئے دو پچیں تیار کرتے ہیں- ایک فاسٹ، جسے ڈرل سکئیر کہتے ہیں اور دوسری خراب موسم کے لئے بٹالین میس کے اندر- ہم بٹالین میس میں پاس آؤٹ ہوئے
پاس آؤٹ ھو کر گھر پہنچ گئے- آگے بی ڈی اے تک کیسے پہنچے وہ پھر کبھی سہی –
