رات بہت تک ، ارد گرد سے آئے ووٹروں سے بات چیت کرتے ،وقت کا پتا ہی نہیں چلا، بہت دیر ہو گئی، نیند نے آ دبوچا اور میں سونے کے لئے چل پڑا – میں نے از راہ ہمدردی دماغ کو بولا کہ یار تو وی ھون آرام کر، تھک گیا ھو گا دن بھر کام کر کر کے- کہنے لگا سر میری قسمت میں آرام کہاں -آپ نے دن بھر جو کچرا مجھے کھلایا ہے اسے اب بھوسا بناؤں گا تاکہ کچھ جگہ بنے- اور آپ کو تو علم نہیں ہو گا کہ اوپر ادھر اتنا بھوسا بھر چکا ھے کہ مزید کی گنجائش نہیں اور آپ میرا مینو menu بھی تبدیل نہیں کر رھے-اتنی چولیں، توبہ- ایسا کیسے چلے گا سر؟ آپ سارا دن صرف چولیں مارتے ہیں، اور ان چولوں کا صرف بھوسہ بن سکتا ہے -اور یہی نہیں اگلے دن آپ اسی بھوسے کو، گیان سمجھ کر، پھر بانٹنا شروع کر دیتے ہیں- آپ کے تمام ملنے والوں کے دماغوں میں بھی بھوسہ بھرتا جا رھا ہے- آگے اُن کے ملنے والوں کے دماغوں کی بھی یہی صورت حال ہے- سمجھ نہیں آتا آپ اتنا اوپر کیسے پہنچ گئے، پوری قوم کے دماغ میں بھوسہ بھر دیا ہے-
