میڈیکل سائنس میں ترقی نے انسانیت کی فلاح میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے- لیکن پہیے ، بلب اور کمپیوٹر چپ نے تو بھٹّہ ہی بٹھا دیا ھے- مشینی ایجادات نے دنیا کو آسائشیں تو دیں لیکن ساتھ تباھی اور بربادی کے راستے بھی کھول دیئے–
پہیے کی ایجاد نے دنیا میں غربت اور امیری کے درمیان ایک وسیع خلیج کو جنم دیا- مہنگی گاڑیاں، پرائیویٹ جہاز محظ سواری نہیں بلکہ ایک لکیر ھے جس کو پار کر کے انسانی زندگی اپنی ہیئت تبدیل کرتی ھے- موسمیاتی تبدیلیوں اور اس دنیا کی تباھی میں آدھا حصہ پہیے کا ھے- ٹینک، لڑاکا طیّارے، بکتر بند گاڑیا کھربوں ڈالر کی انڈسٹری دنیا میں ماحول کو تباہ کرنے کی ذمہ دار ھے-
کاش کہ ھزاروں سال پہلے دو پتھروں کی رگڑسے چنگاری نہ پیدا ہوئی ھوتی، نہ آگ دریافت ھوتی، نہ کھانا پکانے اور کھانے کا رواج ہوتا اور نہ سجی ، دم پخ ، مٹن قورمے ، شنواریاں ، پکوڑے ، سموسے کھا کھا کر سب کے پیٹ نکلے ہوئے ہوتے – نہ باورچی خانے ہوتے اور نہ عورتوں کو گلِا ھوتا- شام کو تھکے ہارے مرد ، کچا ساگ، کچی گوبھی کے پھول کھا کر سو جاتے اور صبح کچے شلجم کا ناشتہ اور دوپہر کچے آلو کھا کر ہشاش بشاش دفتروں میں کام کرتے- بڑے بڑے سٹیٹ لیول کے ڈنر، تقریبات میں کچی بھنڈیوں، کریلوں سے مہمانوں کو تواضح ہوتی اور گندم چمچوں سے کھانی پڑٹی- نہ شادی بیاہ والی مارکیاں ہوتی، نہ دس دس لاکھ کے لنگے بنتے ، شادی کی رسم سادگی سے ادا ہوتی – نہ گھی سے بھرے پکوان بنتے نہ لوگ بیمار ہوتے، نہ ہسپتال ھوتے، نہ دوائیاں بنانے والی فیکٹریوں کا راج ہوتا- نہ سیاست کے لئے صحت کارڈ بنتے یہ سیاسی کیمپیین میں بریانی بٹتی- نہ آگ سے لوھا اور سریا بنانے اور پگلانے والی فیکٹریاں ہوتی نہ اونچی اونچی عمارتیں ، نہ ونڈرسر پیلس، گورنر ھاؤسز، ایوان صدارت ، عالیشان محل ہوتے اور سب کچے مکانوں میں خوشحال زندگی گزار رھے ہوتے- نہ جلانے والی گیس کا مسئلہ ہوتا، نہ گیس پیدا کرنے ممالک کی دنیا میں monopoly ھوتی، نہ تیل کی تجارت ہوتی ، نہ سمندری راستوں کے لئے جنگ- ایک چنگاری نے دنیا کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا-
