تعلیمی نظام کسی بھی ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ معاشرے کی سماجی، معاشی اور تکنیکی ترقی کوفروغ دیتا ہے تعلیم افراد کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے، جس سے ہنرمند افرادی قوت تیار ہوتی ہے۔ یہ افرادی قوت ملکیمعیشت کو مضبوط کرتی ہے، تعلیم یافتہ افراد جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کو اپنانے کی صلاحیت رکھتےہیں۔انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیتی ہے، نئے تعلیم کاروبار شروع ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں۔
تعلیم شعور بیدار کرتی ہے، تعصبات کم کرتی ہے اور رواداری کو فروغ دیتی ہے۔ یہ معاشرے میںمساوات اور انصاف کے کلچر کو مضبوط کرتی ہے، جو استحکام کے لیے ضروری ہے۔
ایک مضبوط تعلیمی نظام سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ملک کو عالمی مقابلے میں آگےرکھتا ہے اور جدید مسائل کے حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔تعلیم افراد کو غربت کے چنگل سے نکالتی ہے۔ یہ لوگوں کو خود انحصاری اور بہتر معیار زندگی فراہم کرتیہے، جو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
تعلیم صحت سے متعلق آگاہی اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کرتی ہے، جو پائیدار ترقی کےلیے اہم ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے تناظر میں، تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری، نصاب کیاصلاحات، اساتذہ کی تربیت اور رسائی کو بڑھانا ضروری ہے۔ بغیر تعلیم کے، کوئی بھی ملک پائیدار ترقی کےہدف کو حاصل نہیں کر سکتا۔
ہماری قوم کی علم سے دشمنی کوئی نئی بات نہیں؛ یہ ایک پرانی روایت ہے جو نسل در نسل چلی آ رہیہے۔ اگر کوئی ایک نکتہ ہے جس پر پوری قوم متفق ہے، تو وہ ہے ہمارے تعلیمی نظام کی بربادی۔جمہوری حکومتیں ہوں یا غیر جمہوری، سب نے تعلیم کے میدان میں یکساں “کامیابی” دکھائی: تعلیمی بجٹکے لئے صرف دو فیصد ۔ انسانی ذہن جادوگری کی حد تک کرشمہ ساز ہے، جو مرکوز سوچ اور مسلسلکوشش سے انقلاب لا سکتا ہے، لیکن اگر سستی کی جائے تو گھنٹوں چھت گھورنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔جب ہم عالمی تعلیمی ماڈلز جیسے فن لینڈ، سنگاپور، اور جنوبی کوریا کے نظام دیکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی خامیوں کااحساس ہوتا ہے۔ یہ ممالک تعلیم کو قومی ترقی کا ستون سمجھتے ہیں، جبکہ ہمارا نظام رٹے بازی اور تعلیمی تجارت ہے۔
ملک کے طول و عرض میں، چاہے سرکاری ہو یا نجی ادارہ، تعلیمی اداروں کی عمارتیں اور ذہنی ترقی دونوںہی تباہی کا شکار ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک، ہر نسل کے ساتھ ہم نے تعلیم کو نظرانداز کیا۔ جوطلبہ کامیاب ہوئے، وہ ان کی انفرادی محنت یا اچھی قسمت کا نتیجہ تھا، کیونکہ ہمارا نظام نہ تو پڑھانا جانتاہے اور نہ ہی سوچنا سکھاتا۔ انگریزوں نے دو سو سال تک برصغیر پر حکومت کی اور تعلیم کو عام آدمی کیپہنچ سے دور رکھا۔ آزادی کے بعد بھی ہم اس نوآبادیاتی سوچ سے نکل نہیں سکے۔ آج ہمارے اسکولوںمیں استاد سمجھتا ہے کہ طلبہ سبق تیار کر کے آئیں گے، اور طلبہ کو امید ہوتی ہے کہ استاد موضوع کا ماہرہوگا۔ اسی کشمکش میں تعلیمی سال گزر جاتا ہے، اور طلبہ گائیڈ بکس اور رٹے بازی پر انحصار کرتے ہیں۔تعلیم اب ایک کاروبار بن چکی ہے، جیسے کوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری۔ ہماری راتوں رات امیر بننے کی خواہشاور آخری رات پڑھ کر امتحان میں کامیابی کی تمنا ہماری زندہ دلی کا ثبوت تو ہے، لیکن عملی طور پر ایک المیہ ہے۔
فن لینڈ، سنگاپور، اور جنوبی کوریاعالمی سطح پر کامیاب تعلیمی نظام ہیں
فن لینڈ کا تعلیمی نظام اساتذہ کی اعلیٰ تربیت، طلبہ پر کم دباؤ، اور تنقیدی سوچ پر زور دیتا ہے۔ وہاں اساتذہکو ڈاکٹرز اور انجینئرز جیسا معاشرتی مقام حاصل ہے، اور نصاب طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔امتحانات کی بجائے عملی پروجیکٹس پر توجہ دی جاتی ہے۔
سنگاپور کا نظام سخت نظم و ضبط، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور نصاب کی مسلسل اپ ڈیٹنگ پر مبنیہے۔ وہ طلبہ کو ریاضی، سائنس، اور ٹیکنالوجی میں عالمی مقابلوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں طلبہ کی محنت اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت نے تعلیم کو قومی ترقی کا انجن بنایا۔ وہٹیکنالوجی کو نصاب کا لازمی حصہ بناتے ہیں اور طلبہ کو تحقیقی مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ان ماڈلز سے ہمیں سیکھنا چاہیے کہ تعلیم کے لیے بجٹ، اساتذہ کی تربیت، اور نصاب کی جدیدیت کتنیاہم ہے۔ جہاں فن لینڈ طلبہ کی ذہنی آزادی پر زور دیتا ہے، وہیں سنگاپور اور جنوبی کوریا نظم و ضبط اورٹیکنالوجی کے امتزاج سے کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کو ان سے رہنمائی لے کر اپنے نظام کو ہمآہنگ کرنا ہوگا۔
جدید دور میں تعلیمی ٹیکنالوجی (EdTech) ہمارے نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اسکے نفاذ میں کئی چیلنجز ہیں:
دیہی علاقوں میں بجلی، انٹرنیٹ، اور کمپیوٹرز کی عدم دستیابی ٹیکنالوجی کے استعمال کو ناممکن بناتی ہے۔ جبکہسنگاپور جیسے ممالک ہر اسکول میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور سمارٹ کلاس رومز فراہم کرتے ہیں۔ اساتزہ کی تربیت کا فقدان: ہمارے اساتذہ کو ای لرننگ ٹولز کی تربیت نہیں دی جاتی ، جبکہ فن لینڈ میں اساتذہ کوباقاعدہ ڈیجیٹل تدریسی تربیت دی جاتی ہے۔ ہمارا 2% تعلیمی بجٹ ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے ناکافی ہے،جبکہ جنوبی کوریا اپنے بجٹ کا بڑا حصہ تعلیمی ٹیکنالوجی پر خرچ کرتا ہے۔
اور ٹیکنالوجی کا عدم مطابقت: ہمارا رٹے نصاب بازی پر مبنی نصاب ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ نہیںدیتا، جبکہ سنگاپور کا نصاب ڈیجیٹل مہارتوں کو لازمی قرار دیتا ہے۔
کچھ علاقوں میں ٹیکنالوجی کو سماجی “مغربی اثر” سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، جبکہ عالمیماڈلز میں صنفی مساوات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
طلبہ اور اساتذہ میں بنیادی ڈیجیٹل ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں ڈیجیٹل خواندگی ابتدائیتعلیم کا حصہ ہے۔
شہری اور دیہی طلبہ دستیابی کے درمیان ٹیکنالوجی تک رسائی میں تفاوت ہے، جبکہ فن لینڈ ہر طالب علم کویکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔
ہمارے مسائل کا حل حکومتیں فوری طور پر پیش نہیں کر سکتیں، لیکن عالمی ماڈلز سے سبق لے کر منظماصلاحات سے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ایک عملی نقشہ پیش کیا جا رہا ہے:
بجٹ کو 2% سے بڑھا کر 4-5% کیا جائے،
کے استعمال کی شفافیت کے لیے ایک بجٹ آزاد ادارہ قائم کیا جائے۔
ڈھانچے، اساتذہ کی تربیت، اور نصاب بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر یکساں توجہ دی جائے
کو 21ویں صدی کے تقاضوں (جیسے نصاب ٹیکنالوجی، تنقیدی سوچ، اور ماحولیاتی شعور) سے ہم آہنگکیا جائے
مہارتیں جیسے کمپیوٹر پروگرامنگ اور عملی مالیاتی خواندگی شامل کی جائیں،
پاکستانی ثقافت کے ساتھ عالمی علوم کا توازن برقرار رکھا جائے :
ہر ضلع میں اساتزہ کی تربیت کے لئے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں اساتذہ کو جدید تدریسی تکنیکاور ٹیکنالوجی کا استعمال سکھایا جائے، جیسے فن لینڈ میں اساتذہ کی مسلسل تربیت ہوتی ہے۔
اساتذہ کی تنخواہوں کو دیگر پیشوں کے برابر کیا جائے تاکہ باصلاحیت افراد اس پیشے کی طرف راغبہوں۔
کی بنیاد پر ترقی اور انعامات کا نظام کارکردگی متعارف کرایا جائے۔
- طلبہ کے لیے بہتر ماحول:
اسکولوں میں بجلی، پانی، اور انٹرنیٹ کی سرکاری سہولیات یقینی بنائی جائیں، جیسے جنوبی کوریا میں ہراسکول جدید سہولیات سے لیس ہے۔
سرگرمیاں جیسے سائنس فیئرز، ڈیبیٹس، نصابی اور آرٹ ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔
طلباء کی نفسیاتی صحت کے لیے کاؤنسلنگ سروسز متعارف کرائی جائیں، جیسے فن لینڈ میں۔
نجی اور سرکاری شعبوں میں ہم آہنگی:
نجی اور سرکاری اسکولوں کے لیے ایک مشترکہ معیار بنایا جائے۔
نجی اسکولوں کی فیسوں اور معیار کی سخت نگرانی کی جائے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے لیبارٹریز اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کی جائے۔
ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال
دیہی علاقوں کے لیے مفت آن لائن کورسز اور ایپس تیار کی جائیں، جیسے سنگاپور میں ای لرننگ پلیٹفارمز۔
ای کلاس رومز اور ڈیجیٹل ٹولز متعارف کرائے جائیں۔
موامی زبانوں میں ای لرننگ مواد تیار کیا جائے۔
والدین اور معاشرے کا کردار
میڈیا مہمات کے ذریعے والدین کو تعلیم اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
مقامی کمیونٹیز کو اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے شامل کیا جائے۔
والدین کے لیے تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔
تنقدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ترویج
رٹے بازی پر مبنی امتحانات کی بجائے تنقیدی سوچ اور عملی سوالات پر مبنی امتحانات متعارفکرائے جائیں، جیسے فن لینڈ میں۔
یونیورسٹیوں میں تحقیقی کلچر کو فرو دینے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں، جیسے جنوبی کوریا میں۔
طلباء کے آئیڈیاز کے لیے انکیوبیٹرز اور سٹارٹ اپ فنڈنگ کے مواقع دیے جائیں۔

عمل درآمد کا منصوبہ
قلیل مدتی اقدامات (1-2 سال): اساتذہ کی تربیت، سرکاری اسکولوں کی بنیادی سہولیات کی بحالی، اورنصاب کے جائزے کے لیے قومی کمیٹی کا قیام۔
وسط مدتی اقدامات (3-5 سال): بجٹ میں اضافہ، نجی اسکولوں کی نگرانی، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز کاآغاز، اور امتحانی نظام میں تبدیلی۔
طویل مدتی اقدامات (5-10 سال): تعلیمی اداروں کو خود مختار بنانا، تنقیدی سوچ کا فروغ، اور تعلیم کوقومی ترقی کا ستون بنانا، جیسے عالمی ماڈلز میں کیا جاتا ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام اس وقت ایک گہری کھائی میں ہے، لیکن فن لینڈ، سنگاپور، اور جنوبی کوریا جیسے عالمی ماڈلزسے سبق لے کر اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے اسے نکالا جا سکتا ہے۔ ہر فرد—والدین، اساتذہ، طلبہ،اور پالیسی سازوں—کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ اگر ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور تعلیم کو تجارتکے بجائے ایک مقصد سمجھیں، تو ہم اس قومی المیے سے نکل کر ایک ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو ذہنیبالیدگی اور تخلیقی صلاحیتوں سے انقلاب لائے۔ آئیے، اس تباہی کو ایک نئے عہد کی ابتدا میں بدلیں۔
