اس ادبی بحث “سوال جواب سے زیادہ اہم ہے ” کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں کو بامقصد سوال کرنے کی ترغیب ملے- بامقصد سوال ان کی زندگیوں کو تبدیل کریں گے-
یہ ایک گہرا فلسفیانہ اور سماجی نقطہ ہے، جو سوال کی اہمیت، سماجی تضادات، اور نظام کی تبدیلی کےموضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔
سوال ایک چنگاری ہے جو سوچ کو بھڑکاتی ہے، ایک آئینہ جو سماج کے زخموں کو عیاں کرتا ہے، اور ایکہتھیار جو تبدیلی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جیسے کوئی ماہر ڈاکٹر مریض کی علامات کو پڑھ کر مرض کی تشخیص کرتاہے، اسی طرح ایک اچھا سوال سماجی مسائل کی جڑ تک پہنچتا ہے۔ مرزا غالب اور علامہ اقبال، اردوشاعری کے دو عظیم ستارے، اپنی شاعری کے ذریعے سوال اٹھاتے ہیں—غالب ذاتی وجود اور سماجیتضادات کے بارے میں، اور اقبال قومی شعور اور خودی کے بارے میں۔ لیکن سوال کی اہمیت کو سمجھنےکے لیے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے سماج میں سوال کیسے بنتا ہے، کیسے دبایا جاتا ہے، اور کیسے اسےنظام کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک گہرا سوال سماجی مسائل کی جڑ کو تلاش کرتا ہے۔ سوال کرنا صرف ایک عمل نہیں، بلکہ ایک مہارتہے جو پوچھنے والے کی بصیرت، ہمت، اور قابلیت کی عکاسی کرتا ہے۔ غالب اور اقبال دونوں نے اپنیشاعری میں سوال اٹھائے،لیکن ان کے انداز اور مقاصد مختلف تھے
غالب کی شاعری ایک ذاتی، وجودی، اور فلسفیانہ سوال ہے۔ ان کا شعر:
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
یہ ایک ایسی پکار ہے جو انسانی وجود کے بنیادی سوال—محبت، دکھ، اور زندگی کے معنی—کو چھوتی ہے۔غالب کے سوالات ذاتی ہیں، لیکن ان کی گہرائی عالمگیر ہے۔ وہ سماج کے تضادات، جیسے کہ محبت کیپیچیدگی یا زندگی کی بے ثباتی، کو طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی کمال پرستی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اپنے سوالات کو تراش کر شاہکار بناتے تھے۔
اقبال کے سوالات اجتماعی اور تحریکی ہیں۔ وہ قوم سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنی خودی کو کیوں بھول گئے؟ انکا شعر:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو فرد اور قوم کو اپنی صلاحیتوں کو جگانے پر مجبور کرتی ہے۔ اقبال کا سوالسماج کے مرض—سستی، غلامی، اور خود اعتمادی کی کمی—کی تشخیص کرتا ہے اور اس کا علاج خودی کیبیداری میں پیش کرتا ہے۔
غالب کا سوال ایک اندرونی جستجو ہے جو سماج کے زخموں کو چھوتا ہے، جبکہ اقبال کا سوال ایک اجتماعیبیداری کی آواز ہے جو نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ دونوں شاعر اپنے سوالات کے ذریعے سماج کیتشخیص کرتے ہیں، لیکن غالب کی تشخیص ذاتی اور فلسفیانہ ہے، جبکہ اقبال کی تشخیص قومی اور عملی ہے۔ہمارے سماج میں لفظوں کے استعمال میں تضاد ہماری سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔ سو ارب کے ڈاکے کو“اسکینڈل” کہا جاتا ہے، جبکہ دو روٹیوں کی چوری کو “جرم” ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ لفظی ہیر پھیر سماجیناانصافی کی عکاسی کرتا ہے—ہم طاقتور کے اسکینڈل کو تخلیقی صلاحیت سمجھتے ہیں، جبکہ غریب کی چوری کوقابل نفرت۔ یہ تضاد ہمارے نظام کی گہری خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
غالب نے اپنی شاعری میں اس طرح کے سماجی تضادات کو طنزیہ انداز میں پیش کیا۔ ان کا شعر:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا
یہ سماجی اور انفرادی جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے، جہاں انسانیت کے بلند معیار تک پہنچنا ایک چیلنج ہے۔غالب کے طنزیہ اشعار سماج کے اس دوغلے پن کو بے نقاب کرتے ہیں، جہاں طاقتور کی غلطی کو معاف کردیا جاتا ہے، لیکن کمزور کی مجبوری کو جرم سمجھا جاتا ہے۔
اقبال نے اس ناانصافی کو نظام کے خلاف ایک بغاوت کے طور پر دیکھا۔ ان کا شعر:
اٹھو، میری دنیا کے غریبوں کو جگاؤ
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلاؤ
یہ ایک واضح چیلنج ہے کہ طاقتور طبقے کی ناانصافیوں کو برداشت نہ کیا جائے۔ اقبال کا پیغام ہے کہ سماجیتبدیلی نیچے سے نہیں، بلکہ نظام کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ وہ چوری اور اسکینڈل کے اس تضاد کوایک بڑے سماجی مرض کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کا علاج قومی بیداری اور خودی میں ہے۔
غالب تضادات کو طنزیہ اور فلسفیانہ انداز میں پیش کرتے ہیں، جبکہ اقبال انہیں ایک تحریکی پیغام کےذریعے چیلنج کرتے ہیں۔ دونوں شاعر سماج کے مرض کی تشخیص کرتے ہیں، لیکن غالب اسے ایک آئینے کیطرح دکھاتے ہیں، جبکہ اقبال اسے بدلنے کی دعوت دیتے ہیں۔
کیا نظام ہمارے طرز زندگی کا تعین کرے گا یا ہمارا طرز زندگی نظام کا فیصلہ کرے گا، یہ ایک بنیادی اورفکر انگیز سوال ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، لیکن ہمارا نظام اس رفتار سے ہم آہنگ نظر نہیں آ رہا۔یہ سوال غالب اور اقبال دونوں کی شاعری سے جڑتا ہے
غالب کی شاعری میں نظام کے مقابلے میں فرد کی جدوجہد زیادہ نمایاں ہے۔ وہ نظام کی سختیوں اور سماجیتضادات کو قبول کرتے ہیں، لیکن ان کا جواب طنز اور خود شناسی سے دیتے ہیں۔ ان کا شعر:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے
یہ نظام کے سامنے فرد کی بے بسی کو بیان کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی اسے ایک فلسفیانہ تسلیم کے ساتھ پیشکرتا ہے۔ غالب کا خیال ہے کہ نظام کو چیلنج کرنے سے زیادہ، فرد کو اپنی اندرونی طاقت کو سمجھنا چاہیے۔
اقبال، نظام کی تبدیلی کو فرد کی بیداری سے جوڑتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طرز زندگی نظام کو تبدیل کر سکتاہے، بشرطیکہ فرد اپنی خودی کو جگائے۔ ان کا شعر:
نہ تو زمین کے لیے ہے نہ آسمان کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے
یہ پیغام دیتا ہے کہ فرد کو اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر نظام کو چیلنج کرنا چاہیے۔ اقبال کا ماننا ہے کہ تبدیلیاوپر سے نہیں، بلکہ فرد کی خود آگاہی سے شروع ہوتی ہے۔
غالب نظام کے سامنے فرد کی جدوجہد کو فلسفیانہ انداز میں دیکھتے ہیں، جبکہ اقبال نظام کی تبدیلی کو فرد کیبیداری سے جوڑتے ہیں۔ غالب سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ اقبال اس کا جواب عمل سے دیتے ہیں۔
“جواب تو ہمیشہ سے “آئیں، بائیں، شائیں ہوتے ہیں، لیکن اصل کہانی سوال میں ہے۔ یہ بات غالب اوراقبال دونوں کی شاعری سے جھلکتی ہے۔ آج کے پاکستانی نوجوان، جو معاشی، سماجی، اور سیاسی چیلنجز کاسامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے سوال کرنا سب سے بڑی طاقت ہے۔ غالب اور اقبال دونوں اس کیاہمیت کو اجاگر کرتے ہیں:
غالب کی شاعری سکھاتی ہے کہ سوال کو گہرا اور ذاتی ہونا چاہیے۔ وہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی دعوتدیتے ہیں۔ آج کے نوجوانوں کے لیے، غالب کا پیغام ہے کہ وہ اپنی شناخت، محبت، اور جدوجہد کےبارے میں سوالات اٹھائیں۔
اقبال کی شاعری نوجوانوں کو خودی کو جگانے کی ترغیب دیتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اسکینڈل اورچوری کے تضاد کو چیلنج کریں، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں–
ہمیں تعلیمی نظام میں غالب اور اقبال کی شاعری کو اس انداز سے پڑھایا جائے کہ طلبہ کو سوال اٹھانے کیترغیب ملے۔ غالب کے طنزیہ اشعار سماجی تضادات کو سمجھنے کے لیے، اور اقبال کے تحریکی اشعار نظامکی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جائیں۔
