دن کے ابھی دس ہی بجے تھے، بندر کیلے کے درخت پر بیٹھا ناریل کے پانی اور کیلوں سے ناشتہ کر رھاتھا-موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگل میں پانی کی کمی چل رھی تھی، اس لئے ناریل کااستعمال ھو رھا تھا تاکہ پانی بچایا سکے-
ایک مکھی بندر کو بار بار تنگ کر رھی تھی – وہ مکھی سے دو دو ہاتھ کرنے کا سوچ ہی رھا تھا، کہ نیچے سے خرگوش کی آواز آئی کہ ” استاد جی گیارہ بجے فوڈ سیکورٹی پر دریا کے کنارے اکٹھ ہے- آپ کو بھی بلایا ھے- گدھے کو بھی لیتے آئیے گا-سب کو پتا تھا کہ گدھا اس کا اچھا دوست ہے-خرگوش جلدی میں تھا ، پیغام دے کے فورا نکل لیا-بندر نےاوپر نظر اٹھائی تو دیکھا کہ گدھا دور سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا آرھا ہے–
گدھا قریب آیا تو علیک سلیک کے بعد بندر نے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا ، “سنا ھے فوڈ سیکورٹی پر اکٹھ ہے گیارہ بجے”؟- گدھے نے سر ہلایا لیکن بولا کچھ نہیں- بندر نے استفسار کیا کہ چپ کیوں ھو؟ گدھے کی آنکھوں میں آنسو تھے- بندر گھبرا گیا کہ کوئی بڑی پریشانی ھے- کچھ تو بولو، بندر نے تھوڑا اونچی آواز میں پوچھا – گدھے نے بندر کی طرف دیکھا اور کہنے لگا، ہم لاھور اور پنڈی سے جانیں بچا کر جنگل میں آئے تھے- ادھر فوڈ سیکورٹی کے نام پر فیصلہ ھونے جا رھا ہے کہ شیر اور چیتے کو گدھے کا شکار کرنے کی اجازت ہے-آج کا اکٹھ اسی لئے ھے- خچروں اور گھوڑوں کو فی الحال کچھ نہیں کہا جائے گا- –
بندر نے آہ بھری اور بولا استادجی، باری تو سب کی آنی ہے – نہ خچر بچے گا نہ ہی گھوڑے، نہ بندر ، نہ خرگوش – بھوکانپ سب کو نگل جائے گا-آخر میں شیر ، شیر کو کھائےگا اور چیتا چیتے کو-جنگل کا نظام بھی دنیا کی طرح درھم برھم ہو چکا ہے
“But I Will Miss You”
