اس وقت دنیا میں صیح معنوں میں گھمسان کا رن پڑا ھے- دستیاب حالیہ معاشی تجزیوں اور رپورٹس کے مطابق، بہت سے ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں، خاص طور پر ان کی جارحانہ ٹیرف (درآمداتی ٹیکس) کی پالیسیاں، دنیا کو ایک عالمیمعاشی مندی (global recession) کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ یہ خیال متعدد معتبر ذرائع جیسے جے پیمورگن، آئی ایم ایف، اور دیگر معاشی اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہے۔ تاہم، یہ ایک حتمی نتیجہ نہیں ہےبلکہ ایک ممکنہ خطرہ ہے، اور معیشت کی سمت کا انحصار مستقبل کی پالیسیوں اور عالمی ردعمل پر ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کو عالمی مندی کا ذمہ دار قرار دینے کی بنیادی وجوہات میں ٹیرف کی جنگ اور تجارت میں رکاوٹیں سب سے نمایاں ہیں- دوسری طرف چین، روس اور شمالی کوریا کا اتحّاد امریکہ کے لئے خطرات پیدا کر رھا ھے- ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 میں چین، میکسیکو، کینیڈا اور دیگرممالک سے درآمدات پر بھاری ٹیرف نافذ کیے ہیں۔ اس ٹیرف کی وجہ سے درآمد شدہ اشیاء کی قیمتں بڑھی ہیں-اور اس وجہ سے افراط زر میں اضافہ ھوا ھے اور صارفین کی قیمت خرید کم ہوئی ہے۔ جے پیمورگن کی رپورٹ کے مطابق، اگر یہ ٹیرف برقرار رہے تو امریکہ اور عالمی معیشت 2025 کے آخر تکمندی میں داخل ہو سکتی ہے، جس کی امکان 40% تک ہے ۔ آئی ایم ایف نے بھی امریکہ کی ترقی کیپیش گوئی کو کم کر کے 1.8% کر دیا ہے، جو ٹرمپ کی تجارت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے
اس ٹیرف وار نے دوسرے ممالک کو جوابی ٹیرف لگانے پر مجبور کیا ھے۔ نتیجتاً، عالمی سپلائی چینز متاثرہوئی ہیں جس سے پیداوار میں کمی آئی ھے۔ مورگن سٹینلے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ “سست ترقی اورمستحکم افراط زر” کے واضح اشارے مل رھے ہیں-یو سی ایل اے کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ اگرٹرمپ کی پالیسیاں مکمل طور پر نافذ ہوتی ہیں تو مندی ناگزیر ہے ۔
اس طرح تمام ممالک کے مرکزی بینکوں کو سود کی شرحیں بڑھانا پڑتی ہیں جس سے قرضے مہنگے ھوتے ہیں ، سرمایہ کاری میں کمی آتی ھے اور معاشی ترقی رک جاتی ھے۔ فورچون میگزین کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپکی امیگریشن پالیسیاں اور ٹیرف مل کر 2025 کے آخر میں امریکہ کو مندی کی طرف دھکیل سکتے ہیں ۔ سیاین این نے بھی خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیاں دنیا کو مندی میں دھکیل سکتی ہیں ۔
اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی جا رھی ہے، جیسا کہ اپریل 2025 میں عالمی اسٹاک مارکیٹکریش، جو ٹیرف پالیسیوں کی وجہ سے شروع ہوا –یہ غیر یقینی کاروباری منصوبہ بندی کو متاثر کر رھا ہے اورسرمایہ کاری کم ہو گئی ھے-ورلڈ بینک نے 2025 کی عالمی ترقی کو 2.3% تک کم کر دیا ہے، جو ٹریڈ وارز کیوجہ سے ہے – ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے سے موجود مسائل جیسے پینڈیمک کے اثرات، توانائی کیبحران، اور قرضوں کے بوجھ کو مزید بڑھا دیا ھے-
