قوموں کا روّیہ اُن کی پہچان ہوتا ہے- معاشرے کی تشکیل ایک وسیع ،طویل مدّتی اور مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے- قومیں دھائیوں نہیں، صدیوں کی تپسیا کے بعد بنتی اور سنورتی ہیں-تھوڑا تھوڑا کے مکمل ہوتاہے- معاشرہ کچھ بھی نہیں صرف “ہم” اور “آپ ” کا مجموعہ ہے- چھوٹی چھوٹی عادات مل کر مکمل انسان بناتی ہیں – زیر ھو تو اِدھر ، پیش ھو تو اُدھر-بس اتنا سا ہی فرق پوری سمت تبدیل کر دیتا ھے-
پارٹیاں، حکومت، ادارے ، صحافت، پولیس، فوج ، ڈاکٹر انجنئر یہ صرف ہم سب کی پہچان کے مختلف نام ہیں- دراصل ہر طرف ہمارا اپنا ہی عکس ہے جو ہمیں نظر آتا ہے- ہم ہی میں سے کچھ نے پڑھانا شروع کر دیا تو وہ استاد کہلایا، یونیفارم پہن لی تو پولیس کہلایا، سفید کوٹ پہن لیا تو ڈاکٹر ، الیکشن لڑ لیا تو سیاستدان –
جب ہم اپنے بچے کو اس کی غلطی پر ڈانتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ اس کی تربیت ہمارے اپنے گھر میں ہو رہی ہے اور ہم ہی اس کی اچھائی یا برائی کے ذمہ دار ہیں- بیٹا ، بیٹی اپنے ماں باپ کا عکس ہوتے ہیں – گھر معاشرے کا بنیادی یونٹ ہے – اس یونٹ کو بڑا کر دیں تو یہ شہر اور ملک بن جاتا ہے- ہم سب کی تربیت ،رہن سہن یکجا ہو کر ایک معاشرہ بن جاتا ہے- ہم سب اس گردش عیاں کا حصہ ہیں-
آبادی کے بڑھنے سے وسائل میں کمی آئی ہے – روزگار ، خوراک، پینے کا صاف پانی، موسمی حالات ان سب میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہے جس سے انسانی زندگی میں تکالیف کا اضافہ ہوا ہے- کیونکہ طرز زندگی میں اسی تناسب سے تبدیلی نھیں آئیں جس تناسب سے ماحول تبدیل ہوا ، اس وجہ سے افراد الجھن کا شکار ہیں- جب عوام الکجھتی ہے تو حکمران طبقہ زیر عتاب آتا ہے- نشر اشاعت کے آلات میں ترقی سے حکومتوں پر تنقید بڑھی ہے جس سے وہ دباؤ کا شکار ضرور ہیں مگر کام کرنے کی نیّت فی الحال نہیں بنی-
