جب ہمارے ہم عصر یونیورسٹی کے لانوں پر عہدو پیماں کر رھے تھے ، ہم ایبٹ آباد کی پہاڑیوں پر راستے تلاش کر رھے تھے- جب دنیا دیکھنے کی عمر تھی ہم نقشوں پر دشمن کے متوقع راستوں کو ڈھونڈ رھے تھے- ملک کا چپّہ چپہ ناپا، کہیں ٹینٹ ملا، کہیں بنکر ، کہیں MOQ کہیں BOQ- الحمدللہ، چالیس سے تھوڑا ہی اوپر گئے ہونگے جب گھر جانے کا وقت آ گیا-فوج نے پنشن بک پکڑائی اور ساتھ ایک یادگاری شیلڈ-
ہم قیمتیں یادیں لئے گھر پہنچے تو بچے لان میں ٹی پر چلنے والے اس زمانے کے مشہور اشتہاری فلوں کے گانے گا رکھے تھے ، ” صبح بناکا، شام بناکا، صحت کا پیغام بناکا”- بچے ہمیں دیکھ کر خوش ہوئے، ہم نے بیگ اور بستر بند ایک طرف رکھا اور بچوں کے ساتھ مل کر گانے لگے – اس وقت تک بچے ایک اور اشتہاری گانے تک پہنچ چکے تھے-” میرے ابّو لائے اک بیمہ پالیسی”
– بیگم نے شور سن کر کچن سے منہ نکالا کہ دیکھوں یہ شور کاھے کا ھے- باھر لان میں، ہمیں دیکھا تو حیران رہ گئی – کھڑکی میں سے ہی سوال داغ دیا، ” آپ کب آئے”؟ ہم نے بھی ریٹائرمنٹ والے موڈ میں جواب دیا ” پہنچے تو ابھی ہیں لیکن واپس نہ جانے کے لئے”- محترمہ ہکاّ بکاّ رہ گئیں اور اگلا سوال داغا ” کیا ھوا، فوج نے نکال دیا کیا؟”- ہم زیر لب مسکرائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بیگم کو اپنا پہلا انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ “نکالا نہیں ، ہم ریٹائر ہو کر عزّت سے گھر واپس آئے ہیں- اب ہم جو دل کرتا ھے کریں گے- لیکن ہمیں یہ گھر اگلے چند مہینوں بعد خالی کرنا ھو گا؟”- بیگم کا اگلا سوال بالکل مناسب تھا، ” پھر ہم جائیں گے کہاں ؟”- بیگم کو پہلی دفع حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور چہرے سے ہوائیاں اڑتی نظر آئیں – ” اور پھر گھر کیسے چلے گا، آپ کو تو آتا بھی کچھ نہیں، سوائے حکم چلانے کے؟”- انٹرویو کا اگلا سوال تھا- ان کے خدشات اور غصّہ اب آپس میں گڈ مڈ ہو چکے تھے اور ابھی ہم ریٹائر منٹ کے بعد گھر داخل نہیں ہوئے تھے- تجزیے اور appreciation کرتے عمر گزری تھی ،ہم اندازہ لگا چکے تھے کہ حالات اب وہ نہیں رہیں گے جو پہلے تھے- اور فکر یہ تھی کہ یادوں اور تحفے میں دی گئی شیلڈ کے سہارے کچن تو چلنا نہیں اور بچوں نے تو ابھی یونیورسٹیوں میں بھی جانا ہے، وغیرہ وغیرہ- پنشن صرف اتنی تھی کہ بیگم زیادہ سے زیادہ ایک ھفتہ چپ رہ سکتیں تھیں -خیر بستر بند اٹھا کر گھر میں داخل ہوئے اور خوشی خوشی کمرے میں جا کر بستر پر لیٹ گئے اور سرگوشی میں بولے ” میں آ گیا ھوں، اب کھل کر سوؤں گا”- ایسے لگا، اس نے کہا ہے ” جی آیاں نو”- خیر ریٹائرمنٹ شروع ہو گئی- ہمیں سب کچھ نارمل سے بھی زیادہ نارمل لگ رھا تھا- جب پہلی پنشن لے کر گھر پہنچے تو چہرے پر اداسی عیّاں تھی-
بیگم کو نہ حقیر سی پنشن کی رقم کی شکل اچھی لگی نہ ہی ہماری- ہماری یونیفارم کے جانے کا بیگم کو اتنا دکھ نہیں تھا جتنا” بیٹ میں” کے واپس چلے جانے کا – بیٹ مین فوجی افسر کے گھر کے کچن میں ریڑھ ھڈی کی حیثیت رکھتا ھے- بیٹ مین ، بالکل بھائیوں جیسا ہوتا ہے جو ہر کام میں مدد کرتا ھے- بس ادھر سے ہی ہمارا paradox شروع ہوتا ہے- کہنے تو ریٹائرڈ کرنل تھے لیکن حقیقت میں اب صرف ” اخبار کے قاری” بن چکے تھے ہم- ریٹائر ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے کہ آپ کو ہر قسم کے بیکار کالم بھی پڑھنے پڑتے ہیں- فوج کے حساب سے ہم ویٹڑن ہو چکے تھے، زمانے کے حساب سے ہم غیر ھنر مند ہونے کے ساتھ ساتھ اوور ایج بھی تھے- ذاتی رائے میں ہمارے اندر بہت potential تھا- ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئے تو وہاں ہم نے یہ فقرہ بول دیا کہ ” ہمارے اندر بہت potential ھے”- انٹرویو لینے والوں میں سے ایک افسر نے پوچھا، جی جی ، ضرور بتائیں کس شعبے میں ھے آپ کی مہارت- اور تو کچھ سمجھ نہ آئی تو کہہ دیا کہ ہماری دو سالانہ کارکردگی رپورٹوں جنہیں ہم ACR کہتے ہیں اس میں برگیڈ کمانڈر نے لکھا تھا ” Officer has lot of potential “ – ہم نے انٹرویو لینے والوں کو آدھا فقرہ بتایا- اگلا حصہ نہیں بتایا جس میں کمانڈر نے لکھا” Provided he uses it also “-پہلے انٹرویو کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد انٹرویو دیئے لیکن وہ سب ہمارے potential کو پک نہ کر پائے-
وہی پھر زیر اور پیش والا معاملہ ہمارے ساتھ پیش آیا، نہ اِدھر کا رہے، نہ اُدھر کےنوکری کا نہ ھونا، بیٹ مین کا جانا، تھوڑی پنشن تک تو یہ معاملات قابل قبول تھے بلکہ ہم کر بھی کیا سکتے تھے-لیکن مرد کی انا کو اس وقت شدید ٹھیس پہنچتی ہے جب کوئی خوببصورت عورت اسے انکل کہ دے-
کچھ دن بعد فیصل آباد ایک شادی میں شرکت کے لئے جانا ہوا- تمام رشتہ دار اکٹھے تھے- دعوت ولیمہ میں پر لطف کھانے سے لطف اندوز ہونے کے لئے بالکل تیّار کھڑے تھے کہ پیچھے سے آواز آئی ” انکل پلیز تھوڑا راستہ دیں گے” ہم شادی ہال کے بالکل درمیان میں راستہ روکے بے نیازی سے گپیں ہانک رھے تھے- پیچھے مڑ کے دیکھا توتقریبا ہماری ہی عمر کی ایک بھاری بھر کم عورت دو نوجوان بچوں کے ساتھ کھڑی تھی- چہرہ شناسا لگا، لیکن ہم خاموشی سے ایک طرف ہو لئے- جب خاتون گزر گئی تو میرا کزن ، مجیب اپنے ہونٹوں پر دلچسپ مسکراہٹ سجائےمیری ہی طرف دیکھ رھا تھا- میں نے پوچھا ،کیا؟ بولا، “حضور یہ جو آپ کو انکل کہ کے گزریں ہیں وہی” نغمہ ممتاز” ہیں جن سے آپ عشق کرتے تھے اور جوانی میں شادی کرنے کے لئے مرے جارھے تھے”- میرے ہاتھ سے پانی کا گلاس گرتے گرتے بچا- یا خدایایہ کیا ماجرا ہو گیا- کیا میں اتنا بے ڈھنگا ہو چکا ہوں- دل چاہا زور زور سے چیخوں، مگر گلے سے آواز تھی کہ نکلنے کو نہ تھی-
محبت میں شرمندگی کی یہ انتہاء تھی لیکن کیا کیجئے اس پیٹ اور سفید بالوں کا- اس حلیے کو انکل کا لفظ ہی جچتا ہے- راولپنڈی گھرپہنچ کر اندھیرے کمرے میں دیر تک نظر نہ آنے والی چھت کو گھورتے گھورتے نہ جانے کب نیند آ گئی- رات خواب میں پھر ایک بار نغمہ نے کھانا کھاتے کھاتے میری طرف دیکھا، جیسے کہ رہی ہو ” چاچا کیسی رھی”- میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا تو، ساتھ ہی بستر پر آرام فرما رہی بیگم صاحبہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھیں کہ اللہ خیر کرے کیا ہوا- میرے چہرے کی دیکھ کر کہنے لگیں ” آپ کو کئی بار بولا ھے، اس عمر میں اکیلے لمبی ڈرائیو مت کیا کریں “- میں گنگ چہرے کے ساتھ بیگم کو دیکھتا رھ گیا، ایسے لگا نغمہ فیصل آباد سے میرا پیچھے کرتے ہوئے گھر پر پہنچ گئی ھے-
