اس تھیوری کے مطابق دنیا کے دو حصے ہیں -ایک طاقت ور یا ترقی یافتہ جنہیں core ممالک کہا جاتا ہے – دوسرے periphery یا ترقی پزیر ممالک جو ترقی یافتہ ممالک کو مزدور اور raw میٹیریل دیتے ہیں- ترقی یافتہ ممالک جو مال یا مصنوعات تیار کرتے ہیں وہی ان کو دولت مہیا کرتی ھے-ترقی پزیر ممالک کے امیر لوگ مزدور اور خام مال مہیا کرنے میں ترقی یافتہ ممالک کی مدد کرتے ہیں- اب یہی تھیوری آپ اپنے ملک پر اپلائی کریں-
پاکستان میں پانچ core شہر ہیں کراچی، لاھور، فیصل آباد، اسلام آباد اور پشاور- باقی شہروں میں سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، حیدر آباد، کوئٹہ کو سیمی core کہ لیں- کور اور سیمی کور شہروں میں مزدوری اور خام مال ، اینٹ، ریت، گندم، چاول، روئی، گنا ہر چیز دیہات اور چھوٹے چھوٹے شہر مہیا کرتے ہیں- اور منافع کدھر جا رھا ہے سیٹھ کے پاس- اور کون مدد کر رھا ھے چھوٹے قصبوں اور شہروں کے ٹھیکیدار- سڑکیں کہاں خراب ہیں چھوٹے شہروں اور قصبوں میں – سیلاب اور زلزلے کدھر آتے ہیں دوردراز بارڈر کے قریب علاقوں میں- جنوبی پنجاب، فاٹا، سوات، گلگت بلتستان، مظفر آباد، کوٹلی، چکوال، اٹک، شکرگڑھ، نارووال، پسرور، چنیوٹ، بلوچستان سارا، اندرون سندھ پسماندہ علاقے ہیں جو کور شہروں کی خدمت پر مامور ہیں-
جب periphery شہروں اور قصبوں میں تباھی مچتی ھے تو کور شہروں سے وسائل کو حرکت دینا ممکن نہیں- یہ ہے اصل مسئلہ- صوبائی حکومتوں کے نزدیک صرف صوبائی دارلخافہ قابل توجہ ہے-
