Screenshot
فوج میں روائت ھے کہ لانگ ماچ یا کسی سپورٹس یا ٹریننگ کے مقابلے میں جیت کے بعد سوجی کا حلوہ بنتا ہے- یخ سردیّوں کی راتوں میں ،تیس چالیس کلومیٹر مارچ کے بعد گرم چائے اور حلوہ کیا لطف دیتا ہے، بیان سے باہر ھے-
فیلڈ ایریا یا فوجی مشقوں میں لنگر کی دال روٹی کا بھی اپنا مزا ہے- فوج کی پیشہ وارانہ زندگی چھوٹی چھوٹی کہانیوں، شرارتوں سے بھر پور ہوتی ہے-
پی ایم اے میں کیڈٹس میں بھائی چارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ھے – اور یہ کہاں ممکن ھے کہ دوستیاں ہوں اور شرارتیں نہ ھوں- یہ شرارتیں تربیت کے دوران اور کمروں میں بھی جاری رہتی ہیں-ہماری پلاٹوں میں جی سی اسدللہ خان بہت زندہ دل آدمی تھا- سارے پیار سے اسے جانی کہتے ہیں- چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے سب کو ہنساتا رھتا تھا- اکثر جب سارجنٹ رگڑا دے رھا ہوتا تھا تو جانی ” پاں پاں ” کی آواز نکال کے ہماری مشقّت کا دورانیہ بڑھا دیتا اور پوری پلاٹون کی گالیاں کھاتا- بہت نفیس انسان ہے- شاھد جسے پیار سے بھائی جان کہتے تھے، ان کے گھر والے ویک اینڈ پر دیسی گھی کی مٹھائیاں ان کے لئے لاتے تھے- بھائی جان کے کمرے میں اکثر چور آ جاتے تھے-
پی ایم اے میں کیڈٹ کی زندگی کمپنی لائن ( رہائشی کمرے) ، ڈرل اور پی ٹی گراؤنڈ، سٹڈی ھالز، ویپن ٹرینگ ایریا ، پی ایم اے روڈ اور mess کے درمیان گھومتی ہے- ان تمام مقامات پر کیڈٹس کو ہنگامی صورتحال کا سامنا رہتا ہے اور اسی نسبت سے کیڈٹ کی Condition تبدیل ہوتی رہتی ہے- یہ سارے میدان جنگ ( battle fields) تقریبا ساتھ ساتھ ہیں – صورتحال گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشا سے باہر نہیں نکل پاتی ہے- پی ٹی کِٹ سے یونیفارم، پھر ڈانگری، مفتی ڈریس، ڈرل، ، فائرنگ ، میس، کلاس رومز، اِنگل ہال ( الف کی نیچے زیر ھے) – یہ ساری ٹرانزیشین بالکل آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کی طرح منٹوں میں انجام پاتی ہیں- جب پورے کورس کی مشترکہ تعلیمی کلاس ہو تو اِنگل ہال میں ہوتی تھی- اور اگر پورے کورس کو ان کی مستی پر کلاس ہوتی تو وہ عموما ویپن ٹرینگ ایریا میں فرنٹ رول سے ھوتی- آپ ذرا تخیّل پرواز کو استعمال میں لائیں کہ چار پانچ سو کیڈٹ فرنٹ رول کرتے ھوئے آگے بڑھ رھے ہیں- کیا نظارہ ہوتا تھا-
ڈرل یا سادہ الفاظ میں ملٹری پریڈ فوجی کا طرّہ امتیاز ہے- ڈرل کے موقع کی مناسبت سے درجنوں cautions ہیں-ہوشیار، آرام باش،جلدی چل، رُک، دائیں پھر، بائیں پھر، پیچھے مڑ – لیکن ایک caution “قدم مار” سب سے پر مغز ، ڈرل موومنٹ ہے- اس میں باقی جسم ساکت رہتا ہے بس دونوں گھٹنے اور پاؤں کی مدد سے دماغ کو ٹکور کرنی ہوتی ہے- ایک ہی جگہ پر پاؤں مارتے جانا ھے، اور شرط یہ ہے ہر بار گھٹنا چھاتی تک اوپر اٹھے اور زور سے زمین پر لگے-
چالیس سال پہلے والے قدم مار اب گھٹنوں کے درد کی شکل میں اثر دکھا رھے ہیں-خداد داد صلاحیتوں کے مالک ڈرل سٹاف کے” ووکل کارڈز” ( vocal cords) کو اللہ تعالی نے بہت وسعت بخش رکھی ہے- کیڈٹ کا ہر عمل سٹاف کے انتہائی نپے تلے اور پر جوش caution کا فوری ردّعمل ہوتا ہے- یہ سُر اور تال کا خوبصورت امتزاج ہے-سٹاف کے caution کی گونج سے کیڈٹ اس سرعت سے گھٹنا اوپر لے جاتا ہے کہ عقل بھی حیران رہ جاتی ہے کہ یہ وہی نوجوان ہے جو پی ایم اے پہنچنے سے قبل اپنے گھر میں دن گیارہ بجے سو کر اُٹھا کرتا تھا-
ایک میل ٹیسٹ کی دردناک کہانی بھی بہت thrilling ھے- اب تو اسے ہم comedy کہ سکتے ہیں لیکن جب دوڑتے تھے تو یہ بہت ایڈونچرس فلم ہوتی تھی- ایک میل کم از کم چھ منٹ میں دوڑنا ھوتا ھے- جو سپر فٹ ھوتے ہیں وہ پانچ منٹ بیس سیکنڈ کے اندر اندر پہنچ کر پورے دس نمبر لیتے ہیں- مال گاڑی کے ڈبے چھ نمبروں پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں- کیونکہ ون میل پاس کئے بغیر نہ اگلی ٹرم ملتی ھے نہ ہی فوج میں کمیشن-
پی ٹی اور ڈرل کے پریڈ میں آٹھ دس ،نظر وٹوؤں کا ایک ٹولہ زخمی پاؤں، یا زخمی بازو پر پٹیّ چڑھائے ، مرجھائے ہوئے چہروں اور دل میں خوشی کے پھوٹتے لڈو ؤں کے ساتھ ، سائیڈ پر کھڑا ہوتا ہے – یہ وہ ہلکے پھلکے بیمار کیڈٹ ہیں جنہیں ڈاکٹر کی طرف سے ایک آدھ دن ٹریننگ سے پرہیز کا مشورہ دیا گیا ہوتا ھے- پی ایم اے میں بیمار ہونے کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آپ جسمانی ورزش کرنے کے اگر قابل نہیں بھی تو کیا ہوا، دیکھ تو سکتے ہیں- تو یہ وہی “ابزرور گروپ ” ہے- اللہ کی دی ہوئی بہت ساری نعمتوں میں سے ایس آئی کیو ( SIQ) sick in quarter کا کیڈٹ کی زندگی میں الگ ہی مقام ھے- ڈاکٹر کے لکھے ہوئے تین الفاظ “SIQ” کا کوئی نعم البدل نہیں- یہ الفاظ راحت بھی ہیں، اور کیڈٹ کی خوشی کی انتہاء بھی-اس ڈاکٹری احسان کی مدّت ایک دن سے لیکر تین دن تک ہوتی ہے- یہ تین الفاظ (ایس آئی کیو) کیڈٹ کے ارد گرد اتنا مضبوط حصار کھینچ دیتے ہیں کہ اس کے اندر کوئی نہیں گھس سکتا-
یہ مکمل آرام کی چٹ ہے- لیکن اس چٹ کے حصول کے لئے 102 بخار سے کم بات نہیں بنتی-
نعمتوں کے لحاظ سے کیڈٹ کی دوسری بڑی خوشی سافٹ dietہے- یہ وہ کنڈیشن ہے، جہاں ڈاکٹر ،کیڈٹ کو کھانے میں سفید چاول تجویز کرتا ہے- جی، یہ وہی سفید چاول ہیں جسے ہم دال کے ساتھ نوش فرماتے ہوئے منہ بسورتے ہیں- سفید چاول کی سنگل پلیٹ جب ڈائنگ ٹیبل پر آتی ہے تو اردگرد بیٹھے پلاٹون میٹ حسرت بھری نگاہوں سے اسے کیسے گھورتے ہیں، اس کا اندازہ آپ نہیں لگا پائیں گے-
Excuse Shoes بھی ڈاکٹری عطا ہے – اس کنڈیشن میں ڈرل شوز اور پی ٹی شوز کا استعمال منع ہے- سادہ الفاظ میں آپ ایک ، آدھ دن ” ابزرور گروپ ” میں اپنے ساتھیوں کی درگت بنتے دیکھیں گے-
پی ایم اے گیٹ کے اندر جنٹلمین کیڈٹ (جی سی ) انگلش کے ساتھ ساتھ اور بہت سی گتھیاں سلجھا رہا ہوتا ھے، جن میں سب سے اہم یہی ھے کہ ” سونا” کب نصیب ہو گا – جنٹلمین کو ایک جی سی نمبر الاٹ ہوتا ھے- اس نمبر کے بعد ، آپ کا اپنے نام کے ساتھ واجبی سا تعلق رہ جاتا ھے- پھر سارا جھولا یہ نمبر جھولتا ہے- ڈرل ، پی ٹی سب کچھ یہ نمبر کرتا ہے- جی سی نمبر ہر ھفتے زیرو ہیئر کٹ کرواتا ھے- زیرو ہیئر کٹ کا مطلب ھے ، سَر کی چھت پر درجن بھر بال چھوڑ کے باقی چاروں طرف مشین چلا دو- کیفے میں کڑاھی یا فروٹ شاپ پر ملک شیک کا بل، جی سی نمبر کے نام بنتا ہے، کوئی غلطی ہو گی تو جی سی نمبر کی جوابدھی ہے- پھر آپ درمیان سے نکل جاتے ہیں- یہاں سب “جی سی” ہیں- نہ کسی کی کوئی ذات ھے، نہ مذھب ، نہ کوئی اعلی ھے نہ ادنی- صرف آپ کی کارکردگی آپ کا تعارف ہے- اگلے دو سال پی ایم اے اور جی سی نمبر آپس میں براہ راست بات چیت کرتے ہیں-
پی ایم اے کی پہلی terms میں طاقت کا توازن بری طرح کیڈٹ کے خلاف ہوتا اور اوپر سے ساری سڑکیں اور نالے بھی تقریبا پنتالیس ڈگری کے زاویے پر بنائے گئے ہیں- یہ تزویراتی بیلینس آہستہ آہستہ کیڈٹ کے حق میں ہوتا جا تا ہے اور فائنل ٹرم تک پہنچتے پہنچتے کیڈٹ جسمانی، ذھنی، تربیتی لحاظ بہت مضبوط ھو چکا ہوتا ہے- پی ایم اے میں بگڑے ِتگڑوں کی مرّمت کا کام بہت تسلی بخش ھوتا ھے- ماضی کا کچھ بھی نہہی رہنے دیتے- پلاٹون کمانڈر اور سٹاف مل کر جی سی کو سیدھا پدرا کرتے ہیں اور پاسنگ آؤٹ تک جی سی سفیدے کے درخت کی طرح بالکل سیدھا ہو چکا ہوتا ہے-ہر چیز حلیے، اٹھنے بیٹھنے، ہنسنے ، کھیلنے کے ساتھ ساتھ،زبان کو بھی refurbish کر دیتے ہیں-نہ عادتیں اپنی رھنے دیتے ہیں نہ زبان- ایک نئی شخصیت کا جنم ہوتا ہے جو انتہائی پر اعتماد، بے خوف، ڈسپلنڈ ، صاف شفاف اورصحت مند عادات کی حامل ہوتی ہے- اُسے پھر کسی گلیشئر پر چڑھا دیں یا تپتے صحرا میں بھیج دیں اسے کوئی فرق نہیں پڑتا- پی ایم اے کیڈٹ کو جو زبان سکھاتاہے ، وہ ” اعتماد” ہے – یہی اعتماد اسے ہر آگ میں کود جانے کی ہمت دیتا ھے-
