بعد از پی ایم اے
جب ہم پی ایم اے سے تربیت مکمل کر کے، پراعتماد شخصیت اور اعلیٰ پائے کی انگریزی کے ساتھ یونٹ میں پہنچے، تو وہاں کی زندگی پی ایم اے سے مختلف تھی۔ فوجی زندگی کا اصل آغاز تو پی ایم اے سے نکلنے کے بعد ہوتا ہے۔ یہ ایسی سادہ اور خلوص سے بھرپور زندگی ہے کہ الفاظ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ یونٹ جاتے وقت اپنا بستر تک گھر سے لے جانا پڑتا ہے۔ بالٹی، تولیہ، صابن، حتیٰ کہ ماچس تک خود خریدنی پڑتی ہے۔ وہ کیا خوب دن تھے جب پندرہ سو روپے ماہانہ تنخواہ میں گزارا ہو جاتا تھا! پکے کمروں میں رہنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔
کیڈٹ کی زندگی پلٹون، کمپنی، فال ان، پریڈ سٹیٹ، ڈانگری، پی ٹی کٹ، مفتی ڈریس، مفتی شوز، ایف ٹی شوز، ڈی ایم ایس، بگ پیک، سمال پیک، ای آر سی، ریسٹرکشن، ڈرل اسکوائر، پی ٹی گراؤنڈ، اینگل ہال، ویپن ٹریننگ ایریا، میپ ریڈنگ، ایچ ایس ایز، سیچل اور ڈنر نائٹ کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن یونٹ میں پہنچتے ہی “بگ پیک” اور “سمال پیک” “جھولا چمڑا” یا “پٹھو” بن جاتے ہیں۔ پھر فوجی افسر کی زندگی فریش، راشن، ٹیکنیکل اور ایڈمن انسپکشن، سکیم، ریکی، بڑا کھانا، گراؤنڈ شیٹ، منٹ شیٹ، چارج شیٹ، لنگر، لنگر گپ، رنر، کیڈر، فیلڈ فائر، کوارٹر گارڈ، ڈیوٹی افسر، رول کال، ایڈوانس پالٹی، روٹ مارچ، دربار اور مکھڈی حلوے کے گرد گھومتی ہے۔ پی ایم اے کی مثالی، سخت اور نظم و ضبط والی زندگی سے نکل کر یونٹ کی زندگی نسبتاً کم رفتار مگر ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتی ہے۔
زندگی بنکر (مورچے)، چیک پوسٹ یا ٹینٹ میں گزرتی ہے۔ “40 پاؤنڈر” اور “80 پاؤنڈر” آہستہ آہستہ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ 40 پاؤنڈر ایک چھوٹا ٹینٹ ہوتا ہے، جبکہ 80 پاؤنڈر اس سے کچھ بڑا۔ کیمپ کاٹ ایک ایسی فولڈنگ چارپائی ہوتی ہے، جس پر نہ آرام سے سو سکتے ہیں نہ بیٹھ سکتے ہیں۔
پی ایم اے میں چالیس پؤنڈر یا ۱۸۰ پوؤنڈر لگانے کی تربیت نہیں دی جاتی البتہ چھوٹی bivoc لگانے کا کثرت سے موقع ملتا ہے- لیکن وہ بھی اپنا یار ” عامر مختار ” خود ہی لگاتا تھا- ہم صرف دیکھتے تھے اور جب bivoc لگ جاتی تو اس میں سوتے تھے- عامر ، کو اللہ تعالی نے انتہائی درجے کی فٹنس اور خوش مزاجی سے نواز رکھا تھا- وہ صرف کھانے کی میز پر سیریس ہوتا تھا-
ابھی یونٹ میں پہنچے پہلا سال ہی تھا کہ دوسری سالانہ فوجی مشقیں پہنچ گئیں- ٹرینگ ایریا جو کہ چولستان میں تھا، وہاں پہنچ کر ہم نے اعلان کیا کہ اپنا چالیس پاؤنڈر ٹینٹ ہم خود لگائیں گے اور ٹینٹ لگانے والی پارٹی کو واپس بھیج دیا- صبح جب کمپنی والے دیکھنے آئے تو ہم کھلے آسمان کے نیچے کیمپ کاٹ پر سو رھے تھے اور ٹینٹ سائیڈ پر پڑا تھا- زندگی بھر پھر ٹینٹ لگانے کا نہیں سوچا-
محدود وسائل میں سلیقے سے زندگی گزارنا ایک بڑا فن ہے۔ زندگی میں پیسوں کی اہمیت اتنی نہیں جتنا جینے کا سلیقہ۔ پی ایم اے سے یہی سلیقہ سیکھ کر نکلے اور پھر عمر بھر اسی کے اسیر رہے۔ اب پی ایم اے اور فوجی زندگی کی روٹین سے آزاد ہیں، لیکن پلٹون میٹ، کمپنی میٹ، کورس میٹ اور یونٹ کے افسران اب یادوں کا حصہ ہیں۔ فوج میں گزرے چونتیس سال اور ہزاروں یادیں ایک فوجی کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔
