دوسری جنگ عظیم کے بعد جارج کیننان کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا پہلا پالیسی پلاننگ ڈائریکٹر لگایا گیا تو سیکریٹری آف سٹیٹ جارج مارشل نے کینان کو پہلی نصیحت یہ کی کہ ‘ avoid trivia’ یعنی اپنے آپ کو چھوٹی چیزوں میں مت الجھاؤ، ھمیشہ بڑی پکچر ذھن میں رکھو- سٹریٹجک منصوبہ بندی چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں الجھنے کا نام نہیں –
۲۰۰۹ میں امریکی تھنک ٹین’ Brookings’ کی شائع کردہ کتاب ” Avoiding Trivia ” میں ۲۰۰۱سے ۲۰۰۹ تک امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پالیسی کے اھداف انتہائی غیر اھم تھے- بڑی پکچر کو مکمل طور پر مس کر دیا گیا- شاید وہی غلطی امریکہ کی دنیا پر دسترس کمزور کر گئی- اور شاید موجودہ امریکی قیادت اسی سٹریٹجک غلطی کی سمت صیح کر رھی ھے-
کافی عرصہ قبل امریکہ میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی واشنگٹن میں درس و تدریس کے حوالے سےکچھ وقت گزارنے کا موقع ملا- کورس کی ابتداء ” avoid trivia” کی نصیحت سے ہوئی- کورس کا مقصد ہی بڑے مسائل کو حل کرنے کے کوارڈینیشن اور بڑی سوچ کی اہمیت پر زور رھا اور کلاس روم میں فرضی حالات بنا کر مشقیں کروائی گئیں کہ بڑے مسائل پر کیسے قابو پانا ہے – ہمیں ایک مشترکہ مشق کروائی گئی کہ عالمی وبا کی صورت میں مسئلے کو کیسے نپٹا جائے- دس سال بعد ایک فرضی مشق ، حقیقت بن کر کرونا کی شکل میں سامنے آ کھڑی ھوئی-اس سے امریکہ کے تعلیمی نظام کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے-
دنیا بھر میں اور ھمارےاپنے مسائل بھی بہت گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں – ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے ہمارے مقاصد بہت واضح اور بڑے ھونے چاھیئں-
سوشل میڈیا کی دنیا قوموں اور معاشروں کو بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھا رھی ہے- سیاسی مقاصد Trivia سے حل نہیں ھو سکتے- پاکستان کے مسائل سیاسی جماعتوں کی سنجیدہ سیاست سے حل ھونگے- ٹویٹر ٹرینڈ اور خالی نعرے ان مسئلوں کا حل نہیں-
