قدرتی آفات، جنگیں, pandemic اور Recessions ، انسانی بحران کو جنم دیتے ہیں-اس وقت دنیایکے بعد دیگرے ان چاروں آفات کی زد میں آ چکی ھے اور مستقبل قریب میں حالات کی بہتری کے کوئی امکانات نہیں – ہماری حکومت کو انسانی بحران سے نمٹنے کی مستقل اور مکمل منصوبہ بندی کرنی چاہیے- ہم چاروں اطراف سے Vulnerable ہیں –
مغرب ، چین، بھارت ، روس اور امریکہ کو بھی علم ہو کہ انسانی بحران، ہوا کی طرح چاروں طرف پھیلتے ہیں- عالمی حالات اس وقت گرداب میں گر چکے ہیں- تباھی بارڈر نہیں دیکھتی-
مصبتیں بھی نکمّے انتظام و انصرام کو ڈھونڈتی پھرتی ہیں – “آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے”- بجلی کے بل، مہنگائی اور بے روزگاری ہی کم نہ تھی اب سیلاب نے آ لیا-
سیلاب چلیں قدرتی آفت ھے اس کا کوئی کیا کر سکتا ھے-غریب کسان اپنے بچے کچھے مال مویشی اور اہل و عیال سمیت اسی پانی کے گرداب سے نکل کر اب کنارے خشکی پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ رھا ہے- کل کرکٹر احمد شہزاد سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین سے ملنے آئے تو رو پڑے- ہر طرف درد بھری کہانیاں ہیں-
حکومت پچیس ارب روپیہ روز قرضہ لے رہی ہے، یقیننا کوئی مجبوری ھو گی وگرنہ سالانہ بجٹ میں اس کا تزکرہ نہیں تھا- لیکن وہ کوئی بڑی بات نہیں- سیٹھ تو ٹیکس دے نہیں رھا -ہمارے ہاں سیٹھ کا وہ حال ہے کہ ” شیر ساریاں نوں کھاوے، پر شیر نوں کوئی نہ کھاوے”- ان کے ٹںیڈ بھر گئے ہیں، پر اَکھّاں نہ بھَریاں- بڑے بڑے مگر مچھوں کی سب کی سوچ ایک ہی طرح کی ہوتی ھے “کاواں ٹولی اِکو بولی”، اپنا فائدہ، اور خود کو بچاؤ- 25 ارب قرض روزانہ کوئی بڑی بات نہیں یہ پچھلی تین حکومتوں کا روزانہ کا شیڈول ہے-
سیلاب میں کارکردگی دکھانے والی بیورو کریسی ویلے ( وقت)کی نماز تو نہیں پڑھ پائی کم ازکم ،کُویلے دیاں ٹَکراں تے ٹھیک مار لے-
گھر چھوڑنے یا گھر کے تباہ ھونے کا دکھ صرف وہی سمجھ سکتا ھے جس پر بیتی ھو- اس کا اندازہ دور سے نہیں ہو سکتا- پچھلے بیس سالوں میں قدرتی آفات، زلزلہ ، سیلاب، دھشت گردی کی جنگ میں مظفر آباد، راولاکوٹ، باغ، بالاکوٹ، سوات، فاٹا، لیہ، مظفر گڑھ، سکھر، بلوچستان کے سیلاب اور زلزلہ علاقوں سمیت لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں- گو کہ وہ اب واپس اپنےگھروں کو جا چکے ہیں لیکن کرب سے گزرنے کے بعد-ملک کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد نوجوان طبقے پر مشتمل ہے اور ان کی اکثریت بے روزگار ہے-یہ بچے دن رات اپنے گھر والوں کے طعنے سنتے ہیں اور اب یہ سیلاب-
قدرتی آفات اپنی جگہ لیکن دنیا میں اس وقت درجنوں تنازعات اور چھوٹی بڑی جنگیں ہو رھی ہیں-
سوڈان کی خانہ جنگی میں تقریبا چھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں- ۳۰ لاکھ بے گھر ھو چکے ہیں اور خانہ جنگی میں دونوں گروپوں کو بیرونی حمایت حاصل ھے- تقریبا دو کروڑ افراد شدید قحط کی زد میں ہیں-
غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں 70000 افراد کا قتل عام جن میں سے 70% عورتیں اور بچے تھے- باقی بچ جانے والے ابھی بھوک اور پیاس سے مارے جا رھے ہیں- شدید قحط سے ہزاروں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں
یوکرائن میں تقریبا چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ساٹھ لاکھ دوسرے ممالک میں ہجرت کر چکے ہیں-
شام میں خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے باعث ساٹھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ساٹھ لاکھ کے قریب افراد نے لبنان میں پناہ لے رکھی ھے-
