اس دنیا میں ہر عمل کا ردعمل ھے- نیوٹن کے قوانینِ حرکت صرف فزکس کے اصول نہیں ہیں بلکہ زندگیکے بنیادی حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔ پہلا قانون ہمیں تبدیلی کے لیے محرک کی ضرورت سکھاتا ہے،دوسرا قانون محنت اور سمت کی اہمیت پر زور دیتا ہے، اور تیسرا قانون ہمیں ہمارے اعمال کی ذمہ داریکا احساس دلاتا ہے۔ ان قوانین کو سمجھ کر ہم نہ صرف اپنی ذاتی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرتی اورسماجی ڈھانچوں کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیاں بھی اندھا دھند صنعتی ترقی کی دین ہے-جیسے جیسے معاشرے سے جھوٹ اور پراپیگنڈا کی مقدار کم ھوتی جائے گی چیزوں میں سدھار پیدا ھوتا جائے گا- یہ قانون قدرت ھے- یہ معاملہ کسی ایک شخص، سیاسی جماعت ، ادارے یا گروہ یا کسی خاص ریاست کا نہیں- نتائج ، سوچ کی پیداوار ہوتے ہیں- علم، تحقیق، سیاست ،انٹر ٹینمنٹ، کھیل، صحافت یہ معاشروں کو منظم کرنے، ان کی ترقی ، عوام کی تفریح اور آگاھی کے صیغے ہیں – لیکن اگر علم اور تحقیق کو جانبداری کی نظر کر دیا جائے- سیاست صرف طاقت کا حصول بن جائے، سینما اور کھیل پراپیگنڈا کی نظر ھو جائے تو پیچھے صرف طوائف الملوکی بچتی ھے-
سیاست میں صحافت کارآمد ھوتی ھے- بہت سادہ سا کلیہ ہے سیاست جو کرے اور صحافت اس کو جوں کا توں رپورٹ کر دے تو یہ فائدہ مند فارمولا ھے- لیکن صحافت اگر سیاست کرے گی تو قیامت ھو گی-
الفاظ virtual reality نہیں ہوتے- یہ سچ مچ وزن رکھتے ہیں- ڈیٹا physical ہے-جھوٹ پتھر کی طرح وزنی ہوتا ہے- دین میں جھوٹ، چغلی اور شر پھیلانے سے بار بار منع کیا گیا ہے- جھوٹ ، چغلی اور شر پھیلانے کی کوشش انفرادی ھو یا اجتماعی اس کا جواب فوری اور اسی شکل میں ملتا ھے
