اس کا سادہ سا جواب تو یہی ھے کہ” آساں کی کرنا اے، جو کرنا اے ،ہون وقت کرے گا”-
پٹرول والی گاڑی میں ڈیزل انجن لگ ہی نہیں سکتا-یہ compatibility کا مسئلہ ہے- ہم جیسے تھے، ویسے ہی ہیں اور ایسے ہی رہیں گے-
حالانکہ پوری دنیا میں طرز زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے-انسان جب جنگلوں سے نکل کر بستیوں میں آباد ہوا تو چھوٹے موٹے قوانین بنے، ان پر عمل شروع ہوا اور اسطرح زندگی کّچے سے پکّے پر دوڑنے لگی اور پھر آہستہ آہستہ دنیا ترقی کر گئی- ہمارے ہاں آج بھی کچّے کے ڈاکو علیحدہ ہیں اور پکّے کے ڈاکو الگ -دونوں قانون نہیں مانتے- کچّے والے بندوق دکھا کر لوٹتے ہیں اور پکّےوالے ٹیکس چوری کر کے- شیر ، جنگل کا بادشاہ ہے mutton بھی کھاتا ہے beef بھی- دنیا کی حکمرانی کرنے والوں کی “سب کچھ کھاجانے کی عادت “جنگل کے بادشاہ کی ہی دین ھے-
پوسٹ ٹرتھ نے تمام نظریات کو چیلنج کر رکھا ہے- نظریات کی deconstruction نے انسانی سوچ میں اودھم مچا رکھا ہے- نہ سوچ کو سمجھ آ رھی ھے کہ کدھر پھنس گئی ھے نہ بندوں کو پتا چل رھا ھے کہ کس نے ڈس لیا ھے- دونوں تڑپ رھے ہیں، اس لئے مسئلے الجھ رھے ہیں- ڈیجیٹل ورلڈ نے ہمارے نظریات کے علاوہ سب کچھ تبدیل کر دیا ھے- نظریہ ہمارا ھڈ حرامی تھا وہ جوں کا توں چل رھا ہے-
موجودہ دور کی ریاست اور اداروں کو چلانے کے لئے صرف CSS کی قابلیت ناکافی ہے- کچھ مشینوں اور ڈیٹا کو استعمال کرنا پڑے گا- یہ سیلاب AC ، DC ، تحصیلدار اور پٹواریوں والے نہیں-

1122 کو وسیع کریں اور مزید وسائل دیں- یہ واحد کام سے جو ہم سے اچھا ہو گیا ھے کہ ہم نے 1122 تشکیل دی- ہمارا ترقی کا کوئی پروگرام نہیں کم از کم بحرانوں سے نمٹنے کے لئے تو عقل اور نئے زمانے کے طریقے استعمال کر لیں-
یہ کوئی تنقید نہیں مشورہ ہے- ملک کو چلانے کے لئے بہت اعلی پائے کی تکنیکی صلاحیتیوں کی مالک بیوروکریسی اور ٹیکنیکل ماہرین کی مشاورت کی ضرورت ہے- ڈیٹا کی مدد سے سایئنٹفیک فیصلے درکار ہیں- بندھ توڑنا سیلاب کا حل نہیں ہوتا- محاورہ ہے کہ انصاف اندھا ہے اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا – تو اشرافیہ نے اس کا نتیجہ یہ اخذ کیا کہ ریاست کی اس تکنیکی معذوری کا خمیازہ قوم بھگتے گی – بھائی اندھے پن کو دور کرنے کے لئے تحقیقی اداروں کو مضبوط کرو اور جن کے پاس دل نہیں ان کو دماغ سے کام لینا سکھاؤ- ابھی یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ ایک اندھا ہے دوسرے کے پاس دل نہیں تو ان دونوں کو نئی فراری لے دو کہ عوام کو کچل دیں-
