یورپ کے ترقی یافتہ ممالک سمیت جنوبی کوریا اور جاپان ایک سنگین چیلنج سے دوچار ہیں: کم ہوتی ہوئی شرحِافزائش نسل- جو کہ نہ صرف ان ممالک کی معاشی اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مستقبل میں ہنر منداور نوجوان افرادی قوت کی شدید کمی کے خطرات کو بھی جنم دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عالمی سطح پر آبادی کی شرح میں کمی کے باوجود، کچھ خطوں میں بڑھتی آبادی کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں، خاص طور پر یورپ، جنوبی کوریا اور جاپان میں، معاشی دباؤ اور جدید طرز زندگی نےخاندانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بڑھتے اخراجات، رہائش کی کمی، اور کیریئر پر توجہ دینے کیوجہ سے نوجوان جوڑوں میں بچوں کی پرورش کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ جنوبی کوریا میں رہائشی اخراجات اورتعلیمی نظام کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ بہت سے جوڑے بچوں کی پرورش کو معاشی طور پر ناقابلِ برداشتسمجھتے ہیں۔جاپان اور جنوبی کوریا میں، روایتی خاندانی ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ شادی کی شرح میںکمی اور طلاق کی شرح میں اضافے نے خاندان بنانے کے رجحان کو کم کیا ہے۔ یورپ میں بھی، انفرادیآزادی اور خود مختاری پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شادی اور بچوں کی پرورش کو ترجیح کم دیجاتی ہے۔
خواتین کی بڑھتی ہوئی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں شمولیت ایک مثبت تبدیلی ہے، لیکن اس کا ایک نتیجہ یہبھی نکلا ہے کہ بہت سی خواتین کیریئر کو ترجیح دینے کی وجہ سے بچوں کی پیدائش کو مؤخر کرتی ہیں یا اسسے مکمل طور پر گریز کرتی ہیں۔ جاپان میں، مثال کے طور پر، خواتین پر کام اور گھریلو ذمہ داریوں کا دباؤاتنا زیادہ ہے کہ وہ خاندان بڑھانے سے کتراتی ہیں۔
یہ تینوں خطے ایک تیزی سے عمر بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جاپان میں، آبادی کا تقریباً 28 فیصدحصہ 65 سال سے زائد عمر کا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یورپ میں بھی، جرمنی، اٹلی میںبزرگ آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، نوجوان آبادی پر دباؤ بڑھا ہے کہ وہ معیشت کوسہارا دیں، جبکہ ان کی اپنی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
عالمی آبادی کا عدم توازن توازن دنیا میں مجموعی طور پر بہت سے مسائل پیدا کر رھا ہے جس میں معیشیت اور امیگریشن کے مسائل سر فہرست ہیں – ترقی پذیر ممالک میں، خاص طور پر افریقہ اور جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں میں، آبادی کی شرح اب بھی بلند ہے، لیکن وسائل کی کمی اور ناکافی معاشی ترقی کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ھے- ذات پات کانظام بھارت میں سماجی، معاشی، اور سیاسی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر رھا ھے- ہے۔ ہندو سماجمیں پیشوں اور سماجی درجہ بندی انتہائی تشویش ناک ھے- ذات پات کی بنیاد پر کچھ طبقات، خاص طور پر دلیت اور پسماندہ ذاتیں، سماجی امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔انہیں بنیادی حقوق، جیسے کہ معیاری تعلیم، صحت، اور سماجی عزت، سے محروم رکھا جاتا ہے۔ذات پات کی وجہ سے بہت سے طبقات کو اعلیٰ ملازمتوں یا کاروباری مواقع تک رسائی نہیں ملتی۔ پسماندہذاتوں کو اکثر کم اجرت والے یا غیر مستحکم روزگار تک محدود رکھا جاتا ہے۔سیاسی جماعتیں ذات پات کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جس سے سماجی تقسیم کو ہواملتی ہے۔ پسماندہ طبقات کی سیاست میں نمائندگی محدود ہے، اس کے برعکس، ترقی یافتہ ممالک میں کم شرحِ پیدائش کی وجہ سے افرادی قوت کی کمی ہو رہی ہے، جو معاشی ترقی کو سست کر رہی ہے۔ یہ متضاد رجحانات عالمی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
جنوبی کوریا میں، پنشن سسٹم پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ کم نوجوان کارکن زیادہ تعداد میں بزرگوں کی مالیضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپ میں بھی، ہیلتھ کیئر سسٹم پر دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہبزرگ آبادی کو زیادہ طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ترقی پذیر ممالک میں غربت اور بے روزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے سماجی خدمات کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے، جو عالمی عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہا ہے
غیر ملکی ہنر مند کارکنوں کو راغب کرنے کے لیے امیگریشین پالیسیوں کی بہتر ی کی ضرورت ھے۔ اس کے علاوہ، ترقی پذیر ممالک سے ہنر مند افرادی قوت کو منظم طریقے سے شامل کرنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ آبادی کے عدم توازن سے نمٹا جا سکے۔اگرچہ یہ چیلنج پیچیدہ ہے، لیکن مناسب پالیسیوں، سماجی تبدیلیوں، تکنیکی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعےاس سے نمٹا جا سکتا ہے۔
