Screenshot
اسلام آباد ( مانیٹرنگ) ستمبر 3: موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان میں سیلاب کے اثرات کو شدید کر دیا ہے۔ 2025 کے سیلاب سے اب تک چھ ملین افراد متاثر ھو چکے ہیں– 31 لاکھ ایکڑ رقبہ، اور 22 لاکھ ایکڑ فصلیں متاثر ھوئی ہیں-
پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے سیالکوٹ، نارووال، گجرات، راجنپور، ڈیرہ اسماعیل خان، اور گھوٹکی زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں ۔
بھارت کی جانب سے دریاؤں (چناب، راوی، ستلج) میں اضافی پانی چھوڑنے اور موسمیاتی تبدیلی سے بڑھتیہوئی بارشوں نے دریاؤں میں غیر معمولی طغیانی پیدا کی، جس سے 2,038 دیہات زیر آب آئے اورفصلوں، مویشیوں، اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا۔

گلوبل وارمنگ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، خاص طور پر خیبرپختونخوا کے شمالی علاقوں جیسےوادی سوات میں، جہاں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے سیکڑوں گھر اور اسکول تباہ کیے۔
سیلاب کے بعد پانی کے جمود سے ڈینگی، ملیریا، اور دیگر پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ھے- بائیس لاکھ ایکڑ فصلیں تباہ ہوئیں، جو غذائی تحفظ اور معیشت پر گہرا اثر ڈالیں گی۔سڑکوں، پلوں، اور عمارتوں کی تباہی سے بحالی کے اخراجات اربوں روپے تک پہنچ گئے۔ اور موسمیاتیتبدیلی کی وجہ سے یہ نقصانات اب بار بار ہونے کا امکان ہے-ناقص شہری منصوبہ بندی، جنگلات کی کٹائی،اور دریاؤں کے کناروں پر تجاوزات نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید بڑھاوا دیا، کیونکہ قدرتی پانی کےبہاؤ کے راستے مسدود ہیں۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان، جو عالمی کاربن اخراج میں 1% سے کم حصہ ڈالتا ہے، موسمیاتی تبدیلی کےبدترین اثرات کا شکار ہے۔ طویل مدتی حل کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی پالیسیاں، جنگلات کیبحالی، اور پائیدار ترقی ضروری ہے۔
