ذہن میں بنے خاکے کو perception کہتے ہیں – perception دو طرح کے علم کی محتاج ہوتی ہے- ایک وہ علم جو ہم نے اپنے مشاھدے سے حاصل کیا اور دوسرا جو ہمیں کتابوں اور دوسرے میڈیم کے ذریعے منتقل ہوا- تیسرا علم وہ ھے جو ہماری کمپنی ( جہاں ہم اٹھتے بیٹھتے ہیں) ہیں وہاں سے ملتا ھے- اگر دس بارہ افراد ایک جگہ اکٹھے گفتگو کر رھے ہیں تو عمومی طور ہر ھاں میں ھاں ملائی جاتی ھے اور جہاں گفتگو کا تسلسل ٹوٹتا ھے دوسرا فرد اس کو آگے پکڑ لیتا ہے- اگر اس گروپ میں کسی کی اختلافی رائے ھے تو وہ خاموش رھے گا کہ مبادا باقی دوست ناراض نہ ھو جائیں- یہ spiral of silence- اقلیتی رائے دبی رھتی ھے-
ہم جتنا کسی واقعے کو زیادہ سنتے ہیں اتنا ہی اس پر یقین کرتے چلے جاتے ہیں – اس فلسفے کو تصوراتی سچ یا سچائی کا سرا ب کہتے ہیں-افواہ بار بار سننے سے سچ لگنا شروع ہو جاتی ھے-
ٹی وی یا یو ٹیوب پر اشتہاری کیمپین اسی کلیے پر بنتی ہے- اشتہار کو اتنا دکھاؤ کہ وہ پک جائے-
نفسیات کے مطابق، ھمارے دماغ کو جو چیز جانی پہچانی نظر آتی ہے، اس کو ہی وہ سچ مان لیتا ہے- ایسا اس لئے ھوتا ھے کہ انسانی دماغ انرجی بچاتا ہے- ہر چیز پر تحقیق کی بجائے یہ چھوٹا راستہ اپناتا ہے جانبدارانہ خیالات کو فورا تسلیم کر لیتا ھے- دماغ کو جب کوئی اشارہ ملے تو اس کو قریبی واقعے کے ساتھ جوڑتا ھے-
تصوراتی سچ کونفسیات میں cognitive bias یہی ہے- ہمارے ذہن میں جو چیز پختہ ہو جاتی ہے ہم پھر اسی کا سرا پکڑ کر آگے بڑھتے رھتے ہیں- اور اس کی پھر پرورش کرتے ہیں-اس کو وہی لوری سناتے ہیں جسے سُن کو وہ سو جاتا ہے اور پھر عمر بھر سویا ہی رھتا ھے
cognitive bias کے شکنجے کو توڑ نا بہت ہی مشکل اور تحقیق طلب کام ھے- اگر حالات اور جگہ تبدیل ہو جائے تو نظریات میں بھی فرق آ جاتا ہے – ہم دلیل , سچ کو ثابت کرنے کے لئے نہیں دے رھے ھوتے بلکہ اپنی انا کی تسکین کر رھے ہوتے ہیں یا دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے-
