چھوٹی چھوٹی ترغیبات اور عادات انسانوں اور معاشروں میں تغیّراتی تبدیلیاں لاتی ہیں-
پی ایم اے تربیت میں چار قسم کے شوز استعمال ہوتے ہیں – ایف ٹی ، ڈی ایم ایس، مَفتی اور پی ٹی شوز-وہاں سینڈل، سلیپر، کھیڑی کی ممانعت ہے-
پی ایم اے جانے سے پہلے، میں جس لباس
میں دھی لینے جاتا تھا، اسی میں سکول چلا جاتا– پی ایم اے میں یہ رعایت حاصل نہیں-
- -تسموں والے بند ڈی ایم ایس ( ربر سول) شوز پاؤں کو جو طاقت بخشتے ہیں “سربن ڈھاکا” صرف انہیں بوٹوں سے ہی چڑھا جا سکتا ہے- یہ شوز اسالٹ کورس، آؤٹ ڈور ٹریننگ ، فائرنگ ، یرموک اور excursion پر پہنے جاتے ہیں- پی ٹی شوز سے آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ یہ آئٹم پی ٹی گراؤنڈ کے لئے مخصوص ہے-مَفتی شوز گرے کلر کی پنٹ ،سفید شرٹ اور پی ایم اے ٹائی کے ساتھ پہنے جاتے ہیں- ایف ٹی شوز ڈرل کے لئے ہیں- ڈرل شوز کے نیچے نعلیں لگتی ہیں تاکہ ڈرل کرتے ہوئے آواز بھی آئے اور گھٹنوں پر زور بھی کم پڑے- گھٹنوں پر ڈرل کا زور نہ پڑے یہ ایک فرضی hypothesis ھے کیونکہ آدھی فرسٹ ٹرم لنگڑا کے چل رہی ہوتی ھے-ان تمام شوز کے کام اور پہننے کی جگہ متعین ہے- صرف ایک یونیورسل ایکسرسائز ایسی ہے ان تمام شوز کے ساتھ کروائی جاتی ھے، وہ “فرنٹ رول” ہے- فرنٹ رول کے لئے کسی ڈریس کوڈ، جگہ یا وقت متعین نہیں ہے- فرنٹ رول کیڈٹ کے لئے آکسیجن کا کام کرتی ہے- اور وہاں آکسیجن کی ڈوز ،دوران تربیت، کم نہیں ہونے دیتے-

چھوٹی چھوٹی عادات جب پختہ ہو جائیں تو انسان اور معاشروں کا کردار بن جاتی ہیں-قطار بنانا، ٹریفک سگنل پر رکنا، اوورٹیک دائیں طرف سے کرنا، سچ بولنا،کچرے کے ڈبے کا استعمال، پبلک مقامات پر تھوکنے سے پرہیز، کھانا وقت پر کھانا، کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، جلدی سونا ، پانچ وقت نماز کی پابندی- اگر یہ عادات بچپن سے ہماری زندگیوں کا حصّہ ہوں تو بڑے ھو کر ہم ٹیکس بھی ادا کریں گے، ملازمین کی تنخواہ وقت پر ادا کریں گے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی بھی نہیں کریں گے کیونکہ اچھائی عادات یہ سب کچھ کرنے نہیں دیں گی- اچھی عادت ، برے کام کے خلاف ایک حد بندی ھے-
رچرڈ ایچ تھیلر اور کاس آر سنسٹین کی ایک
چھوٹی سی کتاب Nudge معاشروں کی بہتر تشکیل کے لئے ایک فائدہ مند کتاب ہے– کتاب میں توجہ دلائی گئیھے کہ بچوں کو مکمل آزادی ضرور دیں لیکن ان کی چھوٹی چھوٹی عادات کو بہتر کریں تاکہ بڑے ہو کر انہیںبہتر فیصلے کرنے میں آسانی ہو–
عادات سمبولزم سے بچوں میں پروان چڑھائی جاتی ہیں – جیسے مسجد میں جوتی پہن نہیں جا سکتے- یہ احترام کی علامت ہے کہ خدا کے سامنے حاظری کے لئے پاکیزہ ہو کر جائیں-
سمبولزم ایک تحریک ھے– جیسے، قومی ترانہ بجے تو احترام میں کھڑے ہو جائیں– آذان شروع ہو توخاموش ہو جائیں– بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا، کھانا شروع کرنے سے پہلے بسمہ اللہ پڑھنا
ایک سپاہی یا فوجی افسر کی تربیت کے دوران معمولی عادات کو تبدیل کر کے اُن میں ڈسپلن لایا جاتا ہے–
پی ایم اے کی وسطی روڈ جسے پی ایم اے روڈ کہتے ہیں وہ کیڈٹس کے لئے ڈسپلن اور احترام کا اشارہ ہے – تقریبا ایک کلومیٹر لمبی سڑک ، مغرب سے مشرق ، اوپر کی طرف تیس کے زاوے سے بنائی گئیہے– اس روڈ پرکیڈیٹس سست اندازمیں نہیں چل سکتے– جونیئر کیڈٹس کے لئے دوڑنا ضروری ہے– سینئرکیڈٹس کے لئے مارچ –
مغربی ممالک میں شہروں کے اندر اور باہر جانے والی شاہراھوں کے درمیان ایک تیز رفتار سڑک ھوتیہے، جس پر آپ آہستہ سفر نہیں کر سکتے– پی ایم اے روڈ وہی فاسٹ ٹریک ہے–
پی ایم اے میں ہریالی اور رگڑا رج کے ہے– گھنے اونچے درختوں اور پھولوں کی سوندی خوشبو دل کوبہت بھاتی ہے – لیکن دوران تربیت سونگھنے اور چسکے والی حسیات کی فرائی انڈے مت مار دیتے ہیں– مجھے اب کا تو علم نہیں، ہمارے زمانے میں ناشتے میں روزانہ صبح فرائی انڈے کھا کھا کر، آملیٹ محبوب بنجاتا ہے– اس دنیا میں جو نہ ملے وہ محبوب ، جو مل جائے اسے قسمت کہتے ہیں– پی ایم اے کی بہت یادآتی ھے لیکن وہاں سے فارغ ہو جانے کے بعد – اسی طرح دیار وطن میں پاکستان بہت یاد آتا ھے اور اسکی بہت فکر رہتی ہے – وطن میں رہنے والوں کو اپنے دیس کی قدر کا اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ جنم بھومی کیامعنی رکھتی ہے–
کیڈیس عام سا کھانا کھاتے ہیں لیکن کھانے کے آداب پر بہت توجہ دی جاتی ہے– پی ایم اے میس میںکھانے کے لئے باقاعدہ ٹائی لگا کے اور بند شوز پہن کے جانا ہوتا ہے– دوران سروس اور ریٹائرمنٹ کےبعد بھی یہی اصول کار فرما رھتا ھے– –بٹالین میس میں اندر داخل ھوں تو قائداعظم کی تصویر کو سیلوٹ کرکے اندر جاتے ہیں– شارٹ کٹ کی اجازت نہیں– جگہ جگہ بورڈ لگے ہیں کہ لان کراس مت کریں– سینئرکیڈٹ قریب سے گزرے تو سلام کرنا ہوتا ھے– موقع کی مناسبت سے لباس پہننا ضروری ہے– یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ڈسپلن پیدا کرتی ہیں– مغربی معاشروں میں انہیں چھوٹی چھوٹی پابندیوں سے معاشروں کو منظمبنایا گیا ہے– خاص طور پر ٹریفک قوانین کی پابندی اور قطار بنانے کی ترغیب سے بہت سی دوسری عاداتبھی تبدیل ہوتی ہیں– ٹریفک قوانین اور قطار بنانے کی عادت خودغرضی کی عادت سے چھٹکارہ پانے میں ممدثابت ہوتی ہے–
پی ایم اے میں صرف کلاسز کے دوران جو ٹی بریک ھوتی ھے صرف وہ تمام پابندیوں سے آزاد ھے- ایسا کیوں ھے؟ مجھے علم نہیں لیکن ٹی بریک کا سین ذھن پر نقش ھے اور اسے یاد کر کے آج بھی چہرے پر خوشی دوڑ جاتی ھے-
کتاب nudge ضرور پڑھیں-
