اگر دو نہریں اوپر نیچے سے گزر رہی ھوں تو انہیں siphon aqueduct کہتے ہیں- یہ ایک مشکل صورتحال ھوتی ھے جسے آرکیٹکچر ذھانت سے تعمیر کیا جاتا ھے-
اسی طرح اگر دنیا بھی مشکلات کا شکار ہے اور ریاست بھی تو یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غور طلب صورتحال ہے- ایک عالمی طاقت ( امریکہ) اور دوسری ابھرتی طاقت ( چین ) کے درمیان کشمکش کو ( Thucydides trap) کہتے ہیں- ان حالات میں navigate کرنے کے لئے بہت سوجھ بوجھ چاہیے- یہ ٹائٹ rope صورتحال ھے-
بیماری کی تشخیص ( diagnosis )، شفا کی کامیابی کی ضمانت ھے- جسطرح جسم بیمار ہوتا ہے، معاشرے بھی تغیّر کے عمل سے گزرتے ہیں- آبادی کے بڑھنے سے جب وسائل کم ہوتے جائیں اور ضرورتیں زیادہ تو خودغرضی پنپتی ہے- خود غرضی پھر جھوٹ، لالچ ، بدعنوانی، اور درجنوں دوسری برائیوں کو جنم دیتی ہے اور معاشرہ بیمار سا لگنے لگتا ہے- ایسی صورتحال بالکل پیچیدہ بیماری کی طرح ہو جاتی ھے- سمجھ نہیں آتی کہ، کیا کریں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے- وہ سرا پکڑنا ہی اصل کمال ھے جو سب کچھ ٹھیک کر دے- لیکن اتنے بڑے گنجل کا سرا پکڑا نہیں جاتا- اگر سرا ہاتھ آ بھی جائے تو گنجل ایک ایک گانٹھ کرکے ہی کھلتا ہے- بہتری کی طرف ، اچھائی کی طرف ایک ایک قدم لے کر ہی چڑھا جاتا ہے- حتی کہ بری عادات بھی ایک ایک کر کے انسان کو لٹاتی ہیں-
معاشرے کی صحت، ریاست کی حفاظت اور عوام کی خوشحالی سیاست اور معیشیت سے جڑی ھے- کیونکہ ریاست میں ایک تغیّر ہے اور گنجل پیچیدہ ہے تو یہ سمجھ بوجھ، سیاسی تحمل ، برداشت اور افہام تفہیم سے کھلے گا-
اور سونے پہ سہاگہ کہ دنیا بھی ایک تغیّر سے گزر رھی ہے- اس وقت عالمی طاقتیں بھی مشکلات کا شکار ہے اور ہم بھی – یہ ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال ہے-
دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے – کہیں خام مال ہے تو کہیں مینوفیکچرنگ یونٹ- اب ریاست کا مسئلہ صرف اس ریاست تک محدود نہیں بلکہ یہ سب کا مشترکہ مسئلہ بن جاتا ہے-جیسا کہ امیگریشن کا مسئلہ، سستی مزدوری، مہاجرین، کرونا، بے روزگاری، پینے کا صاف پانی وغیرہ-یوکرائن- روس، اسرائیل- غزہ، اسرائیل -ایران، بھارت- پاکستان جنگ سے ہم نے دیکھا لیا کہ جنگ کہیں بھی ہو اس کے اثرات سامان کی ترسیل، تجارت، ایوی ایشن ہر جگہ پہنچتے ہیں-
اس وقت عالمی سطح پر دنیا کے چار بڑے مسئلے ہیں- امریکہ اور چین کی سپر پاور بننے کی تگ و دو ( Thucydides trap) – موسمیاتی تبدیلیاں اور مصنوعی ذھانت میں برتری کی جنگ اور نان سٹیٹ ایکٹرز ( ملٹی نیشنل) کے ریاستوں اور عالمی سیاست میں ضرورت سے بڑھتا کردار-
اس pull اور push کے درمیان ریاستوں کے پاس اپنے اندرونی مسائل کے حل کے لئے کھل کر فیصلہ کرنے کے مواقع محدود ہیں- ملٹی نیشینل ریاستی معیشیت میں بہت بڑی حصہ دار ہیں-
اسکاٹ لینڈ میں ایک مشہور کہاوت ھے کہ-“اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہمحسوس نہیں ہوتا” -دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر باقی دنیا کے لئے پالیسیاں بناتے ہیں- ان کو گلوبل ساؤتھ یا ترقی پزیر ممالک کی حالت سدھارنے کا کوئی شوق نہیں –
امریکی کہاوت ہے کہ “ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنےپر اکتفا کرتے ہیں“- موجودہ حالات میں خارجہ پالیسی کے فیصلوں کےلئے بہت سمجھ بوجھ کی ضرورت ھے-
یہ حالات کی پیچیدگی گنجل کھلنے نہیں دے رہی-
